امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگا، سوئس حکومت کی تصدیق

برن(قدرت روزنامہ) سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے ابتدائی مذاکرات جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے مشہور پہاڑی تفریحی مقام بورگن اسٹاک میں ہوں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ منصوبے کے تحت امریکا اور ایران کے نمائندے، جبکہ پاکستان اور قطر بطور ثالث، دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ جمعہ کو مذاکراتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

بیان کے مطابق اس ملاقات کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر ابتدائی مشاورت کرنا ہے۔

سوئس حکام نے اجلاس کے ایجنڈے، شرکاء کی سطح یا ملاقات کے مکمل شیڈول کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ میں کسی بالمشافہ تقریب کا انعقاد نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی الیکٹرانک طریقے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں۔

سفارتی مبصرین کے مطابق بورگن اسٹاک میں ہونے والا اجلاس امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اعتماد سازی اور عملی اقدامات کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی کو بھی اس عمل میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک نے مذاکراتی ماحول پیدا کرنے اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert