چکوال میں ہانیہ کے جاں بحق ہونے کا واقعہ، آئی جی پنجاب نے حقائق بیان کردیے

چکوال (قدرت روزنامہ)چکوال میں کم عمر بچی ہانیہ کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے حقائق بیان کردیے ہیں۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچی کی جان گئی خاندان اجڑ گیا ہے، معصوم بچی کی جان کو مشکلات کے پیچھے نہیں چھپایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش کی جارہی ہے، حقائق کو سامنے لانے کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن کی جارہی ہے، یہ تفتیش کسی کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ سچ سامنے لانے کے لیے کی جارہی ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ کوئی ادارہ عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتا جب تک کہ اپنی غلطی کو تسلیم نہ کیا جائے، اہلکاروں کی غفلت اور اختیارات سے تجاوز کسی صورت قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس، پنجاب حکومت اور تمام ادارے تفتیش کو شفاف بنانے کے لیے کوشاں ہیں، ایسے اقدامات کیے جائیں گے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ معصوم بچی کی ہلاکت کے کیس کی ایمانداری اور نیت نیتی سے تفتیش کریں گے۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھا نے کہا کہ واقعے کی ایف آئی آر بچی کے والد کی مدعیت میں فوری طور پر درج کی گئی، اسلحہ ریکارڈ اور عینی شاہد کے مطابق اہلکار کو نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو گاڑی کے پیچھے چھپے اور فائرنگ کی، اہلکار سمجھے کے گاڑی سے فائرنگ کی جارہی ہے، ہانیہ کے والد نے فائرنگ ہونے پر گاڑی بھگائی تو اہلکار سمجھا کہ ڈاکو اندر ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کا کہنا تھا کہ ایس او پی یہ ہے کہ اہلکار صرف اندازے کی بنیاد پر فائرنگ نہیں کرسکتے، کسی ڈاکو کے گھر بھی چھاپہ ماریں تو اس کی فیملی کی حفاظت کی جاتی ہے، اہلکار نے اندازے سے فائرنگ کی جو بڑی غلطی ہے۔

WhatsApp
Get Alert