امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات کا کامیاب اختتام
12 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے پر دستخط، 4 اہم ورکنگ گروپس قائم کرنے کا فیصلہ

برگن اسٹاک(قدرت روزنامہ)سوئٹزرلینڈ میں ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ کے فریم ورک کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں، جس میں 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور خطے میں امن و امان کے لیے کئی اہم معاہدوں کو حتمی شکل دے دی گئی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے مذاکرات کے کامیاب اختتام کے بعد جوہری امور اور عائد پابندیوں کی مرحلہ وار منسوخی کے لیے چار خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں پابندیوں کے خاتمے کا گروپ، جوہری امور کا گروپ، تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی کا گروپ، اور نگرانی و نفاذ کا گروپ شامل ہیں۔
اس حوالے سے ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجراء کے لیے باقاعدہ دستخطوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سمندری تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت پر ایک مشترکہ رابطے کا نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے فوجی تصادم یا سفارتی کشیدگی سے بچا جا سکے۔
ایرانی چیف مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی بین الاقوامی ضمانت دینے پر بھی مکمل اتفاق ہوا ہے، اور امید ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے بعد لبنان کا مسئلہ اپنے حتمی حل تک پہنچ جائے گا، جب تک ایران اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کرلیتا، وہ مذاکرات کا عمل ترک نہیں کرے گا، کیوںکہ صرف فوجی کامیابی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے حقیقی معاشی و سیاسی فوائد سفارتکاری کے بغیر مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
