ایسا نہیں ہوسکتا کہ اورملکوں کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں لیکن ایران کے پاس نہ ہوں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اورملکوں کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں لیکن ایران کے پاس نہ ہوں، بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیئے، اس نکتہ پرکسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیئے، شرپسند عناصر امن عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی،ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایرانی صدر کو پاکستا ن میں خوش آمدیدکہتے ہیں، دورہ پاکستان کیلئے میری دعوت قبول کرنے پر ایرانی صدر کا مشکور ہوں۔ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں، اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے بعد اس دورے پر بے حد خوشی ہوئی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کردارلائق تحسین ہے،ایرانی قیادت اور عوام کی دلیری جذبے عزت اور اہمیت کو داد دیتا ہوں۔ امن کوششوں میں تعاون پر دوست ملکوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ برگن اسٹاک میں تیکنیکی سطح کے مذاکرات بھی اہمیت کے حامل رہے۔مشترکہ کوششوں اور عزم سے اس مرحلے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایم اویو اور جنگ بندی کیلئے وقار اور عزت کے ساتھ دستخط کئے۔ آج ہم یہاں روشن مستقبل کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، دونوں ممالک مشترکہ ترقی اور مستقبل کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے۔یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان امن اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گا،ثالثی کیلئے پاکستان پر اعتماد کرنے پر ایران کے مشکور ہیں۔دوست وہی ہوتاہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے، شرپسند عناصر امن عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیئے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ تمام ملکوں کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں لیکن ایران کے پاس نہ ہوں۔
اس نکتہ پرکسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیئے، ایران اور پاکستان ہمیشہ دوست اور بھائی رہے ہیں۔ ایران کے صدر کے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی اقتصادی، سکیورٹی اور علاقائی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
