“آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں
آپ نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ جاسوس کو چھوڑو ورنہ انڈیا حملہ کر دے گا ،آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے؟" محمود خان اچکزئی نے ایاز صادق کو کھری کھری سنا دیں

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)محمود خان اچکزئی نے ایاز صادق کو کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو کھری کھری سنا دیں۔ انہوں نے کہاکہ “”آپ نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آپ نے کہا کہ آرمی چیف نے کہا کہ جاسوس کو چھوڑو ورنہ انڈیا حملہ کر دے گا ،آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے؟”۔
جبکہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر حکومت نیک نامی کمارہی ہے تو پاکستان میں نیک نامی کھو رہی ہے، فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہیئے، اسے ملک کے اندر استعمال کیا جارہا ہے، جلسوں میں جب نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا فوج کو نواز شریف محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت، عسکری قیادت کے سیاسی کردار اور اسپیکر قومی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ان کے اس خطاب کے دوران ہی سرکاری ٹی وی کے چینل پی ٹی وی پارلیمنٹ اور نیشنل اسمبلی کی لائیو نشریات کو اچانک بند کر دیا گیا۔ اس سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، اسپیکر صاحب کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہئے تھی۔
حکومتی بینچوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امیر جے یو آئی ف نے ماضی کے سیاسی جلسوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ نہیں کہا کرتے تھے؟ موجودہ حکومت عالمی سطح پر تو شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی نیک نامی پوری طرح گنوا چکی ہے، پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت پر ہونا چاہئے، لیکن افسوس کہ اسے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا طے شدہ مارچ مؤخر کیا، اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے شکوہ بھی کیا کہ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے کشمیر میں کیا کر رہے ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خواجہ آصف نے ایوان میں جو باتیں کی ہیں، وہ انہیں بطور وزیرِ دفاع بالکل نہیں کرنی چاہئیے تھیں، حکومت کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے، آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح کا کام اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں خطاب جاری۔۔۔۔۔
پی ٹی وی پارلیمنٹ پر نشریات بند
نیشنل اسمبلی کی سرکاری لائیو بھی بند
جبکہ قومی اسمبلی میں سکرینوں اور اسپیکر پر بھی آواز بند
۔۔۔۔۔
اجلاس میں وزیراعظم بھی شریک https://t.co/ooemBpJwp1 pic.twitter.com/A3SZKDgb1i— Fahim Akhtar Malik (@writetofahim) June 24, 2026
بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں یہ خطاب ابھی جاری ہی تھا کہ اچانک ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ پر اس خطاب کی نشریات کو روک دیا گیا اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ بھی بند کر دی گئی، ایوان کے اندر موجود اسمبلی کی اسکرینوں اور اسپیکر پر بھی مولانا فضل الرحمان کی آواز کو بند کر دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
