کوئٹہ میں عوام جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہیں، منگلا کے عوام کی جبری بے دخلی قبول نہیں، بدامنی شہری مسائل اور لوڈشیڈنگ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
رندوزئی پولیس اسٹیشن کی مسلسل بندش، منگلا سے آبادی کی جبری بے دخلی اور کیسکو کی نااہلی قابلِ مذمت ہے، ضلعی کمیٹی کا اجلاس

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈوکیٹ، صوبائی سیکریٹری خوشحال کاسی، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز، ندا سنگر، احمد خان لونی، عبدالرزاق خان بڑیچ، علی محمد ترین، سلیمان بازئی ، پروفیسر اسد ترین، جمعہ خان زرکون، سید احسان آغا، عبید اللہ توخی،محمود ریاض، علاقائی سیکریٹریز، سینئر معاون سیکریٹریز، مستقل اراکین، ضلعی و علاقائی ذمہ داران اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے مختلف علاقائی یونٹس کے سیکریٹریوں نے گزشتہ عرصے کے دوران تنظیمی، سیاسی، عوامی اور عوامی رابطہ مہم سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس نے رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مجموعی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیا اور ہدایت کی کہ پارٹی کی تنظیمی بنیادوں کو مزید مضبوط، فعال اور منظم بنایا جائے، نئے کارکنوں کی شمولیت، عوامی رابطوں میں وسعت، سیاسی سرگرمیوں میں تسلسل اور تنظیمی ڈھانچے کو ہر سطح پر مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی 5 ویں برسی کے موقع پر قلعہ سیف اللہ میں منعقد ہونے والے عظیم الشان، تاریخی اور فقیدالمثال جلسۂ عام کی شاندار کامیابی پر ضلع کوئٹہ کے کارکنوں، ہمدردوں اور عوام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد کی تاریخی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پشتون عوام آج بھی ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی قومی، جمہوری، ترقی پسند اور عوام دوست فکر پر غیر متزلزل اعتماد رکھتے ہیں اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہی کو اپنے قومی، آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کی حقیقی نمائندہ جماعت سمجھتے ہیں۔ اجلاس نے صوبہ ، بالخصوص کوئٹہ شہر اور اس کے گردونواح میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال، مسلح گروہوں و جھتوں کی کھلی سرگرمیوں، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، چوری، راہزنی اور دیگر جرائم میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اجلاس نے کہا کہ ہنہ اوڑک سمیت حالیہ تمام افسوسناک واقعات اس ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ حکومت مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے محض دعووں اور بیانات تک محدود ہو چکی ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرکے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اجلاس نے منگلا کے عوام کی جبری منتقلی کے اقدامات کو عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کسی بھی آبادی کو اس کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے، قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے یا عوام کی مرضی کے خلاف نقل مکانی پر مجبور کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ عوام کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کی بے دخلی آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے نواں کلی کے رندوزئی پولیس اسٹیشن کی مسلسل بندش پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس پورے علاقے کو عملاً جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہزارگنجی اور ملحقہ علاقوں میں ڈکیتی، چوری، راہزنی اور تاجروں و محنت کشوں کو اسلحے کے زور پر لوٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور حکومتی رٹ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہیں۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ رندوزئی پولیس اسٹیشن کو فوری طور پر فعال کیا جائے اور علاقے میں مؤثر پولیس گشت اور سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس نے کوئٹہ شہر میں غیر اعلانیہ اور طویل بجلی کی لوڈشیڈنگ، کیسکو کی نااہلی، بدانتظامی اور عوام دشمن رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں شہریوں کو گھنٹوں بجلی سے محروم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ اسی طرح گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے گھریلو صارفین، تاجروں، صنعتکاروں اور عام شہریوں کی زندگی شدید مشکلات سے دوچار کر دی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہے ہیں۔ اجلاس نے کوئٹہ شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، تباہ حال سیوریج نظام، پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور دیگر شہری مسائل کو صوبائی دارالحکومت کے ساتھ مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ متعلقہ ادارے اپنی آئینی، قانونی اور انتظامی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اجلاس نے واضح کیا کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے امن و امان کی بحالی، جرائم کے خاتمے، بجلی، گیس، پانی، صفائی اور دیگر بنیادی شہری مسائل کے حل کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ عوام، تاجروں، طلبہ، وکلاء، مزدوروں، خواتین اور دیگر شہری طبقات کے ساتھ مل کر ایک بھرپور، منظم اور مرحلہ وار احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔ اجلاس نے پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے تمام جمہوری، ترقی پسند، وطن دوست اور عوام دوست سیاسی قوتوں سے رابطوں اور مشترکہ جدوجہد کے آغاز کو بروقت، مثبت اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی سنگین صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کے قومی، جمہوری، آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کا ہر سطح پر مؤثر دفاع کیا جا سکے اور ملک میں جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
