پنجگور میں آئی ای ڈی نصب کرتے ہوئے دھماکہ، دو مبینہ دہشت گرد ہلاک


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور کیچ میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پنجگور میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ایک مبینہ دہشت گردانہ سازش ناکام بنا دی گئی، جبکہ ضلع کیچ میں ایف سی بلوچستان ساوتھ نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایک مبینہ دہشت گرد کو ہلاک کرکے اس کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے گوارگو کے گاں مورتن میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم “فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ دہشت گرد عوامی راستے پر دیسی ساختہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) نصب کر رہے تھے کہ اسی دوران بارودی مواد قبل از وقت پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارودی مواد عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا جا رہا تھا، تاہم دھماکہ قبل از وقت ہونے سے منصوبہ ناکام ہو گیا اور کوئی شہری جانی نقصان کا شکار نہیں ہوا۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور مزید بارودی مواد یا دیگر خطرناک اشیا کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔دوسری جانب ایف سی بلوچستان ساوتھ نے ضلع کیچ کے علاقے سامی میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی مکمل تلاشی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کر کے قبضے میں لے لیا، جبکہ مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک اور اس کے سہولت کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا حصہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عوامی مقامات، شاہراہوں اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے نگرانی اور سرچ آپریشنز مزید مثر بنائے جا رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert