کیس میں بڑی چیز یہ ہوئی کہ جائے وقوعہ پرکرائم سین کا فرانزک ہی نہیں کیا گیا

فرانزک کیلئے کرائم سین پر ثبوت سب سے اہم ہوتے ہیں، لیکن یہاں چوتھے دن فرانزک ٹیم کوبلایاگیا، اب دیکھ لیں کہ تین دنوں میں چیزیں کیا ہوئی ہوں گی؟ صحافی نعیم اشرف بٹ


لاہور(قدرت روزنامہ)لاہور میں متاثرہ غیرملکی خواتین کیس میں بڑی چیز یہ ہوئی کہ جائے وقوعہ پرکرائم سین کا فرانزک ہی نہیں کیا گیا، جبکہ فرانزک کیلئے کرائم سین پر ثبوت سب سے اہم ہوتے ہیں۔ اے آروائی نیوز کے پروگرام میں صحافی نعیم اشرف بٹ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی ایف آئی آر اور متاثرہ خواتین کا 164 کا بیان دونوں میں تضاد ہے، پولیس کے مطابق انہوں نے بازیاب کرایا جبکہ خواتین نے ایک اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے، گاڑی سے چھلانگ لگائی، ایک دکان میں پناہ لی، پھر ٹریفک وارڈن آیا، اس نے پولیس کو بلایا، یہ سب پولیس کی ایف آئی آر اور خواتین کے بیانات میں فرق ہے۔
بڑی خبر یہ ہے کہ عام طور پر جب اس طرح کا معاملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے فرانزک والوں کو بلایا جاتا ہے۔
لیکن اس کیس میں بڑی چیز یہ ہوئی کہ جائے وقوعہ یعنی کرائم سین کا فرانزک ہی نہیں کیا گیا، کرائم سین معائنہ کیلئے سب سے پہلا کام ایس اوپی ہے، جبکہ لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ فرانزک لیب ہے، ان کو بلایا جاتا ہے۔ فرانزک کیلئے کرائم سین پر ثبوت سب سے اہم ہوتے ہیں۔
لیکن یہاں پر کیا ہوا؟تین دن گزر گئے تو آج چوتھے دن فرانزک ٹیم کو کرائم سین انوسٹی گیشن کا کہا گیا ہے۔وہ آپ دیکھ لیں کہ تین دنوں میں چیزیں کیا ہوئی ہوں گی؟خواتین کے سیمپل لئے گئے وہ باہر چلی گئیں، لیکن کرائم سین پر فرانزک کو تین دن نہیں لے جایا گیا۔ دوسری جانب لاہور پولیس نے غیرملکی متاثرہ خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کیس میں نامزد ملزم ’’باس‘‘ کو پکڑ لیا ہے، پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزم ’باس‘ سمیت4 افراد کو رات گئے حراست میں لے لیا گیا، گرفتار ملزموں کے موبائل فون بھی فرانزک کیلئے بھیج دیئے گئے۔
نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے مطابق لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ ریپ کیس میں نامزد ملزم’باس‘ پکڑا گیا۔ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزمان میں سے تین افراد نے خاتون کا ریپ کیا ہے۔ پولیس نے زیرحراست ملزمان اور خواتین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے فرانزک لیب بھیج دیے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert