بلوچستان ہائی کورٹ نے 9 سالہ بچے کے اغوا و قتل کیس میں ملزم کی اپیل مسترد، دو مرتبہ سزائے موت برقرار

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائی کورٹ نے گزشتہ روز9 سالہ فرید احمد ولد پائیدین کے اغوا اور قتل کیس میں ملزم منیر احمد ولد حبیب اللہ ساکن قلعہ ویالہ برشور کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت پشین کی جانب سے 2024 میں سنائی گئی دو مرتبہ سزائے موت کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس محمد عامر نواز رانا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ کھلی عدالت میں سناتے ہوئے قتل ریفرنس کا جواب بھی اثبات میں دیا اور قرار دیا کہ ملزم کے خلاف شواہد مکمل، مربوط اور ناقابلِ تردید ہیں۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ملزم کا عدالتی اعتراف، مقتول کی لاش کی برآمدگی، فرانزک اور سائبر شواہد جرم کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرتے ہیں، جبکہ دفاع کی جانب سے عدالتی اعتراف، سائبر شواہد اور دیگر نکات پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات بھی مسترد کر دیے گئے۔ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں نہ تو کوئی قانونی خامی موجود ہے اور نہ ہی حقائق کے حوالے سے کوئی نقص پایا گیا، اس لیے سزا میں نرمی کی تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے میں سزا کم کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور تمام شواہد ملزم کے جرم کی مضبوط اور واضح کڑی ثابت ہوتے ہیں۔مدعی کی جانب سے کیس کی پیروی سپریم کورٹ کے وکلا میروائس بٹیزئی اور علی احمد کاکڑ نے کی۔
