سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کر رہے ہیں، اپوزیشن نے صوبائی حکومت کا استعفیٰ مانگ لیا؛ محمود خان اچکزئی و دیگر کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے باقاعدہ تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے فوری استعفے کا مطالبہ کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، راجہ ناصر عباس، لطیف کھوسہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت کے ذمہ دار فوری استعفیٰ دیں یا انہیں فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام قیادت کوئٹہ جا کر محتاط انداز میں حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کرے گی۔ محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ اگر پشتون اور بلوچ عوام نے فیصلہ کر لیا تو پھر بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو مزید مت اکسائیں، کشمیر اور بلوچستان میں اپنے بچوں کو گولی مارو گے تو اس کا نتیجہ صرف بربادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کے حکمرانوں نے بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو ہم انہیں عوامی طاقت سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اپوزیشن مشترکہ طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر استعفیٰ دے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جتھوں اور ڈیتھ اسکواڈز کی حکومتی سرپرستی فوری طور پر ختم کی جائے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صرف فوٹو سیشن کے لیے کوئٹہ گئے، ان میں اتنا ظرف تک نہیں تھا کہ وہ شہداء کے لواحقین اور دھرنے کے مظاہرین سے جا کر ملاقات کرتے۔
اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست واقعی بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو اسے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سیاسی ڈائیلاگ ہی اس مسئلے کا واحد اور پائیدار حل ہے۔
