سوئی گیس کمپنیوں کی شاہ خرچیاں بے نقاب: چائے، کافی اور بونسز کی مد میں اربوں روپے صارفین سے وصول کرنے کا انکشاف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سوئی گیس کمپنیوں کی شاہ خرچیاں بے نقاب ہوگئیں اور چائے، کافی اور بونسز کی مد میں اربوں روپے صارفین کی جیبوں سے وصول کرنے کا انکشاف سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق سوئی گیس کمپنیوں کے اربوں روپے کے اخراجات ایک بار پھر شدید سوالات کی زد میں آ گئے ہیں۔ پارلیمانی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گیس کمپنیوں نے چائے، کافی، کلب ممبرشپس اور بھاری بونسز پر اربوں روپے اڑائے اور بعد ازاں یہ رقم گیس ٹیرف (بلوں) کے ذریعے غریب صارفین سے وصول کر لی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے اپنے ملازمین اور افسران کی چائے، کافی، مہنگی کلب ممبرشپس اور دیگر پرتعیش مراعات پر تقریباً 11 کروڑ 56 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنی نے ان اخراجات کو ‘ہیومن ریسورس لاگت’ کے طور پر ظاہر کیا اور بعد میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے یہ سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا۔
دوسری جانب ایس این جی پی ایل حکام نے آڈٹ اعتراضات پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام مراعات اور اخراجات کمپنی کے پہلے سے منظور شدہ قواعد و ضوابط کے عین مطابق دیے گئے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اہم اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی سنگین مالی بے ضابطگیاں بھی زیرِ غور آئیں۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس ایس جی سی شدید مالی نقصان کا شکار رہی، لیکن اس کے باوجود کمپنی کے ایگزیکٹوز اور عملے کو 1 ارب 60 کروڑ 40 لاکھ روپے کا خطیر پرفارمنس بونس بانٹ دیا گیا۔
یہ بونس وفاقی فنانس ڈویژن کی واضح ہدایات اور قواعد کے برعکس دیا گیا، اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں کمپنی کے اپنے منیجنگ ڈائریکٹر بھی شامل تھے۔
ایس ایس جی سی انتظامیہ نے پی اے سی کے سامنے اپنا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کے مجموعی نقصان کے باوجود یہ پرفارمنس بونس ملازمین کی انفرادی کارکردگی کو مدِ نظر رکھ کر دیا گیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گیس کمپنیوں کی ان شاہ خرچیوں اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
