وفاقی و صوبائی ٹیکسز، دھودر مائننگ کمپنی منصوبے کے چیئرمین نے خدشات کا اظہار کردیا

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ایم سی سی ہوائے دھودر مائننگ کمپنی منصوبے کے چیئرمین ہوپانگ (Zhang Liangeng) نے کہاہے کہ بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے وافر مواقع موجود ہیں لیکن بیرونی سرمایہ کاروں کو صوبے کی تعمیر و ترقی میں حصہ بنانے کے لئے ٹیکسز اور دیگر غیر ضروری سمیت بیورو کریسی کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ یہاں کام کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے پاکستان بلوچستان اور متعلقہ کمپنیوں سمیت لوگ مستفید ہوسکیں۔ ہماری کمپنی علاقے کی تعمیر و ترقی، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی مواصلات کی بہتری کو یقینی بناتی ہے اور مقامی افراد کو دور جدید کے مطابق جدید تربیت فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار کما سکیں۔ سینکڑوں ملازمین کو جدید تربیت فراہم کی جاچکی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ دنوں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی کو پیداوار میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے عائد کردہ غیر ضروری اور بلا جواز ٹیکسز اور رکاوٹیں ہیں۔ حالانکہ وفاقی حکومت نے ہماری کمپنی کو ایکسپورٹ پرموشن زون کا درجہ دیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکسز کا بوجھ کم ہونا تھا لیکن اس سہولت کے باوجود ہم پر 42 فیصد تک ٹیکسز بڑھا دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے غیر متوازن سیلز ٹیکس 18 فیصد کی بھرمار کے بعد ہم پر اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے جس کے ہمارے پیداواری منصوبے کے علاوہ صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت ہماری آمدن پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں ایسے غلط اقدامات اور پالیسیوں کی وجہ سے تینوں فریقین متاثر ہوتے ہیں اور ٹیکسز کی بھرمار کی ایک بوجھ بن چکی ہے جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت پر برے اثرات پڑتے ہیں انہوں نے بتایا کہ منصوبے سے نکلنے والے 100 ٹرکوں میں 40 فیصد زنک ہوتا ہے اور ہر دوسرے روز 22 سے 28 ٹن مال سے لوڈ 40 سے 45 ٹرک نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسٹمز کی جانب سے ایکسپورٹ کے لئے متعارف کرائے جانے والے جدید ای سسٹم کے رائج ہونے ہماری مشکلات بڑھی ہے ہماری خواہش ہے کہ حکومت کسٹمز کی جانب سے ایکسپورٹ کے لئے متعارف کرائے جانے والے جدید ای سسٹم کو آسان اور سہل بنائے تاکہ معاملات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جاسکے انہوں نے بتایا کہ مذکورہ منصوبہ پاکستان اور چائنا کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موثر ذریعہ ہے اور یہ دونوں کے مفاد میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ چین اور اس کی کمپنیوں سمیت ہماری کمپنی بھی پاکستان کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر لحاظ سے پاکستان کے رائج سسٹم پر عملدرآمد کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس سسٹم کو ایکسپورٹ کے لئے بہتر بنایا جائے تاکہ پیداواری سسٹم متاثر نہ ہو کیونکہ پہلے مینول طریقے سے خود کار نظام پر کام ہوتا تھا لیکن اب جدت آنے کے ساتھ ساتھ سسٹم میں پیچیدگیاں بڑھی ہیں انہیں اور خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ بہتری کے ساتھ آگے بڑھا جاسکے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہمیں پیداواری منصوبوں کے حوالے سے کچھ مشکلات درپیش تھیں جن کے حل کے لئے ہم نے حکومت، متعلقہ حکام اور اداروں سے رجوع کیا لیکن شنوائی نہ ہونے پر ہم نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا جس پر انہوں نے ہمیں 50 فیصد ریلیف فراہم کیا جو خوش آئند اقدام ہے انہوں نے بتایا کہ بی آر اے کی جانب سے 18 فیصد سیلز ٹیکس پر شدید تحفظات ہیں ایکسپورٹ پرموشن زون کی سہولت دی تھی لیکن اس کے باوجود سہولیات فراہم نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے آنے والوں کے راستے میں اس طرح کی شرائط عائد کرکے ان کی حوصلہ شکنی ہوگی اس لئے بیورو کریسی کی جانب سے حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان، چین کی دوستی کے مفاد میں ہم ان مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود مجبوراً کام کررہے ہیں اور ہم پر کمیونٹی کی بھی ذمہ داری ہے اور کوشش ہے کہ اس کو نبھاتے ہوئے ان کو درپیش مشکلات دور کرکے ان کی فلاح و بہبود علاقے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے جس میں مقامی لوگوں کو کاروباری حوالے سے ترجیح دی جاتی ہے اور جہاں پر چائنیز کام کرتے ہیں وہ مقامی لوگوں کو جدید دور کے مطابق تربیت فراہم کرتے ہیں اور تربیت کا حصول مکمل ہونے پر چائنیز کی ذمہ داری مقامی ہنر مند لوگوں کو سونپ دی جاتی ہے اور ہمارے ملک کی پالیسی ہے کہ مقامی لوگوں کو تربیت یافتہ بناکر روزگار دیں تاکہ علاقے میں سازگار ماحول پیدا ہو اور لوگوں کو ذریعہ معاش بھی مل سکے۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور بالخصوص چیف سیکرٹری بلوچستان اور سینئر ایم بی آر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں کام میں حائل رکاوٹوں کو بروقت نوٹس لیتے ہوئے دور کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں وافر مقدار میں ادویات، سازو سامان کے علاوہ کمپنی کے ملازمین اور مقامی لوگوں کوایمبولینس 24 گھنٹے سہولت فراہم کی گئی ہے۔اور اسی طرح تعلیمی اداروں میں کتابیں، یونیفارمز، بیگز اور دیگر سامان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ 10 ہزار طالبات کو چائنیز حکومت کی جانب سے پیکج دے رہے ہیں جس میں انہیں جدید علوم کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں عطیات دیتے ہیں اس کے علاوہ مذہبی تہوار عیدین کے موقع پر لوگوں میں تحفے تحائف راشن پیکجز اور غریب گھرانوں کو مالی تعاون کیا جاتا ہے۔وندر دھودر روڈ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری گزشتہ کئی سالوں سے ہماری کمپنی کی ذمہ داری ہے جس کا مقصد مقامی لوگوں کو سفری سہولیات فراہم کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری استعداد محدود ہے اس کے باوجود وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں سہولیات فراہم کرنے کے لئے کام کررہے ہیں اور لسبیلہ یونیورسٹی میں ریسرچ کے لئے عطیات فراہم کرنے کے علاوہ گڈانی جیل میں مقید قیدیوں کے لئے ٹھنڈے پانی کی فراہمی کے لئے 13 واٹر کولر نصب کروائے ہیں۔ علاقے میں ماحول کو بہتر بنانے اور سرسبز بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لئے 10 ہزار درخت لگائے ہیں اور جنگلی حیات کی بہتری کے لئے بھی اقدامات اٹھارہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور کمپنی نے کام کرنے والے مقامی لوگوں کو 3 ماہ بعد ایک ماہ کی چھٹی دی جاتی ہے اور 8 گھنٹے ڈیوٹی دی جاتی ہے بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی ہے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمپنی کے مختلف شعبوں میں 1250 مقامی لوگ کام کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیندک کی طرح مائننگ کے دوران جہاں بھی نکلنے والے پانی کو 2 مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ایک پانی کو صاف کرکے زرعی اور دوسرا آر او پلانٹ کے ذریعے صاف کرکے پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی کی سالانہ 5 لاکھ ٹن پیداوار کو مزید بڑھایا جارہا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 10 گاؤں میں سولر لائٹس لگائی گئیں ہے اور مائننگ کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ہمارے لئے انسانی جانیں اہمیت کی حامل ہے انہوں نے بتایا کہ مائننگ کے دوران ایک 1100میٹر گہرا اور 8 میٹر گولائی میں ٹنل بناتے وقت 100 میٹر کی سائیڈ میں چاروں اطراف ٹنل بناکر مواد نکالتے ہیں جس کے بعد ان خالی سوراخ کو بھر دیا جاتا ہے تاکہ کام بیٹھ نہ جائے۔
