سانحہ زیارت: بغیر ہتھیار پولیس بھیجنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، حکومت کے پاس اختیار نہیں مذاکرات کا ‘ فوری استعفیٰ دے؛ محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت)اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ہتھیار اور اسلحہ کے پولیس اہلکاروں کو مانگی بھیجنے والے ڈی سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک سب قاتل ہیں، ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سرفراز حکومت فوری استعفیٰ دے اور اس حکومت کو بہرصورت گھر جانا ہوگا۔
دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بے اختیار حکمران ہیں، ان کے پاس بات چیت یا مذاکرات کا کوئی اختیار نہیں اس لیے ان سے بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے اتنے سستے نہیں کہ انہیں یوں بے دردی سے قتل کیا جائے، پہلے انہیں شہید کیا گیا اور پھر ان پر تیزاب ڈالا گیا، جس نے ان پولیس والوں کو بھیجا تھا اسے فوری مستعفی ہونا چاہیے تھا یا ذمہ داروں کو اسے برطرف کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی لاشیں جس انداز میں گاڑیوں میں ڈال کر کوئٹہ لائی گئیں، ویسا سلوک تو کوئی قصاب بکروں کے ساتھ بھی نہیں کرتا، ان سب باتوں کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر باقاعدہ لڑائی مسلط کی گئی ہے، لاشیں بھجوا کر یہ سمجھا گیا ہے کہ ہم پیسوں پر بک جائیں گے، اگر لواحقین کو پیسوں کی ضرورت ہوتی تو یہ قوم خود ایک کروڑ 20 لاکھ روپے جمع کرکے دے دیتی۔
ملکی سیاست اور اداروں کے کردار پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ فوج اور دیگر اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے آئین کے تحت چلنا ہوگا، سیاست اور انتخابات میں مداخلت فوج کا کام نہیں۔ عوام جسے ووٹ دیں، حکمرانی کا حق اسی کو ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چلانے کا واحد راستہ پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی اقوام کے ساحل و وسائل کا احترام ہے۔ ان قوتوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہمارے وطن کے وسائل اور معدنیات زبردستی لیں گے، لیکن جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں وہاں کے مقامی لوگوں سے بات کرکے ایک حصہ انہیں دیا جانا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں اپوزیشن کا پیغام لے کر آیا ہوں، اپوزیشن کی تمام قیادت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ دھرنا تاریخ دے، ہم پورے پاکستان میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان دھرنوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے انہیں ہر ضلع کے ڈی سی آفس کے باہر منعقد کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچ عوام سے بات چیت کے بعد احتجاج کو مزید بڑھائیں گے اور یہ دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چمن سرحد پر تجارت بند ہے، وہاں کے عوام کو بھی مشاورت سے دوبارہ دھرنا شروع کرنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کا اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک اجلاس طلب کرے۔ اگر افغانستان پر دہشت گردی ثابت ہوئی تو ہم سب ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاہم ہمسایوں کی آزادی کا خیال بھی رکھنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پشتون فرقہ پرست یا دہشت گرد نہیں، مگر آج انہیں دانستہ طور پر دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پشتون دہشت گرد نہیں مگر اپنے وطن کا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔ ہم بندوقیں نہیں اٹھائیں گے مگر اس ظلم کے خلاف ایک منظم تحریک کی اشد ضرورت ہے، اب باتوں کا نہیں عمل کا وقت ہے اور ظالم سے مقابلے کے لیے اپنی صفوں کو درست کرنا ہوگا۔ انہوں نے زہری میں سردار موسیانی پر ہونے والے ظلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹے کو باپ کے سامنے مار دیا گیا، کیا یہ انسانیت ہے؟ محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ ہم ایک خدا کو سجدہ کرنے والے ہیں، کسی ظالم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے، اگر ریاست کا یہی رویہ رہا تو گولیاں ختم ہو جائیں گی مگر نوجوان ختم نہیں ہوں گے۔
