ڈیڈ لاک برقرار؛ سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کا دھرنا پانچویں روز بھی جاری، بے اختیار حکومتی وفد کی مذاکرات کی کوشش


کوئٹہ (ڈیلی قدرت) زیارت میں دہشت گردی کے واقعہ میں شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کامیتوں کے ہمراہ کوئٹہ میں درھرنا جاری، حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور رات گئے تک جاری رہا ۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت میں دہشتگردی کے واقعہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری رہا ۔ احتجاجی دھرنے میں دہشت گردی کے واقعہ میں جاں بحق پولیس اہلکاروں کے لواحقین ، سیاسی ، سماجی رہنمائوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے آزاد اور بااختیار جویشل کمیشن کا قیام،زیارت ہرنائی، ہنہ اوڑک ، شعبان، زرغون ا ور دیگر علاقوں سے دہشت گرد عناصر کا صفایا اور لیویز فورس کی بحالی سمیت دیگر مطالبات منظور کیے جائیں ۔پیر کی شب حکومتی وفد اور سانحہ زیارت کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ حکومتی وفد میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور صوبائی صحت بخت محمد کاکڑ،سینیٹر منظور احمد کاکڑ،بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب خان سمیت دیگر شامل تھے جنہوں نے آل پارٹیز کی جانب سے رحیم زیارتوال،نصراللہ زیرے،اصغر خان اچکزئی ، آغاحسن بلوچ،داود شاہ،سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین اورسے مذاکرات کئے ۔ حکومتی وفد نے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر دھرنے کے شرکاء کو آگاہ کیا تاہم رات گئے تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا ۔

WhatsApp
Get Alert