بجلی کم، بل زیادہ! پاکستان کا انوکھا فارمولا، پیداوار گھٹی مگر قیمت 14 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان میں بجلی کی پیداوار جون 2026 کے دوران گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2.5 فیصد کم ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں آنے والی رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث قطر نے حال ہی میں فورس میجر کی مدت میں توسیع کی تھی جس کا اثر بجلی کی پیداوار پر بھی پڑا۔

بجلی کی پیداوار میں کمی کے باوجود صارفین کے لیے بجلی کی اوسط لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں بجلی کی اوسط قیمت 14 فیصد بڑھ کر 8.9885 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی جبکہ جون 2025 میں یہی لاگت 7.8698 روپے فی یونٹ تھی۔

ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بھی کم رہی۔ جون 2026 میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی 3 فیصد کمی کے بعد 5,242 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی جو مجموعی پیداوار کا 39.03 فیصد حصہ بنتی ہے۔ گزشتہ سال جون میں ہائیڈل پیداوار 5,410 گیگا واٹ آور تھی۔ کمی کی ایک وجہ تربیلا پاور جنریشن یونٹ میں خرابی کو قرار دیا گیا ہے۔

مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 10 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 1,510 گیگا واٹ آور سے کم ہو کر 1,358 گیگا واٹ آور رہ گئی۔ دوسری جانب درآمدی کوئلے سے پیداوار میں اضافہ ہوا جو 21.6 فیصد بڑھ کر 1,699 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ مقدار 1,397 گیگا واٹ آور تھی۔

جون 2026 میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) نے مہنگے ذرائع سے بھی بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 57 روپے فی یونٹ جبکہ فرنس آئل سے پیداوار کی لاگت 52 روپے فی یونٹ رہی۔ اس کے مقابلے میں جون 2025 میں آر ایف او سے 151 گیگا واٹ آور بجلی 29 روپے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کی گئی تھی جس سے فرنس آئل سے پیداوار کی لاگت میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جون 2026 میں گیس سے پیدا ہونے والی بجلی 10.5 فیصد کم ہو کر 867 گیگا واٹ آور رہی جبکہ جون 2025 میں یہ مقدار 968 گیگا واٹ آور تھی۔ اس دوران مقامی گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 13.6820 روپے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔ جون 2026 میں آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی 1,480 گیگا واٹ آور رہی، جو مجموعی پیداوار کا 11.02 فیصد حصہ ہے جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار 2,216 گیگا واٹ آور تھی۔ دوسری جانب آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 21.87 روپے سے بڑھ کر 35.51 روپے فی یونٹ ہوگئی یعنی تقریباً 62 فیصد اضافہ ہوا۔

اس کے برعکس جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ جون 2026 میں نیوکلیئر پاور جنریشن 31.5 فیصد بڑھ کر 1,800 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی جو مجموعی بجلی پیداوار کا 13.40 فیصد بنتی ہے۔ جون 2025 میں جوہری ذرائع سے 1,383 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی تھی۔

جون 2026 میں پاکستان نے ایران سے بھی 47 گیگا واٹ آور بجلی درآمد کی جس کی قیمت 27.6635 روپے فی یونٹ رہی۔ گزشتہ سال اسی مقدار کی درآمد 22.5155 روپے فی یونٹ میں ہوئی تھی جس سے قیمت میں 23 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہوا سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ونڈ پاور جنریشن 29.5 فیصد اضافے کے ساتھ 676 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال یہ 522 گیگا واٹ آور تھی۔ اسی طرح بیگاس سے بجلی پیداوار 35 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر 46 گیگا واٹ آور ہوگئی جبکہ سولر توانائی سے پیداوار معمولی اضافے کے بعد 110 گیگا واٹ آور رہی۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں ملک میں مجموعی بجلی پیداوار 13,413 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی جو جون 2025 کی 13,744 گیگا واٹ آور پیداوار سے کم ہے۔ فراہم کی جانے والی بجلی 13,066 گیگا واٹ آور رہی، جس کی اوسط لاگت 8.9138 روپے فی یونٹ تھی جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار 13,310 گیگا واٹ آور اور لاگت 7.6800 روپے فی یونٹ تھی۔

دوسری جانب سی پی پی اے-جی نے جون 2026 کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں 1.20 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست دائر کر دی ہے جبکہ جون 2025 میں یہ اضافہ 0.6541 روپے فی یونٹ تھا۔ نیپرا اس درخواست پر 29 جولائی 2026 کو عوامی سماعت کرے گا۔

WhatsApp
Get Alert