شہباز حکومت ناکام؟ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 34 فیصد کمی،اسٹیٹ بینک نے سب کچھ بتادیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)شہباز حکومت کی معاشی پالیسیوں کے لیے ایک اور چیلنج سامنے آ گیا ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایف ڈی آئی 2.477 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1.637 ارب ڈالر رہ گئی

مالی سال 2025-26 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کو 1.637 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی جبکہ مالی سال 2025 میں یہ حجم 2.477 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران ایف ڈی آئی میں 840 ملین ڈالر یعنی 34 فیصد کمی واقع ہوئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق زیرِ جائزہ مالی سال میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد (Gross Inflows) 3.568 ارب ڈالر رہی جبکہ اسی عرصے میں 1.931 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملک سے باہر منتقل کی گئی جس کے بعد خالص ایف ڈی آئی 1.637 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی مسلسل منفی رجحان کا شکار رہی۔ مالی سال 2026 کے دوران اس مد میں 595 ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کا اظہار ہوتا ہے۔

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، پورٹ فولیو سرمایہ کاری اور غیر ملکی سرکاری سرمایہ کاری پر مشتمل مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی گزشتہ مالی سال میں نمایاں کم رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 451 ملین ڈالر رہی، جو مالی سال 2025 میں 1.746 ارب ڈالر تھی۔ اس طرح ایک سال میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 1.295 ارب ڈالر یا 74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ماہانہ بنیاد پر بھی ایف ڈی آئی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جون 2026 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 13.5 ملین ڈالر رہی جبکہ جون 2025 میں یہ 210 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

WhatsApp
Get Alert