حامد میر نے وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں سے متعلق اندرونی بات بتادی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے مختلف سیاسی، آئینی اور صحافتی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے متعدد اہم دعوے کیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے بعض سینئر وفاقی وزراء کو جب یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی وزارت تبدیل کی جا سکتی ہے یا انہیں وفاقی کابینہ سے نکالا جا سکتا ہے تو وہ لاہور جا کر اپنی قیادت سے ملاقات کرتے ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ ٹل جاتا ہے۔
حامد میر نے ایک اور اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ایک انتہائی سینئر رہنما نے ان سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کو ایک ممکنہ ڈیل پر آمادہ کریں، مجھے کہا گیا کہ عمران خان اگر صرف تین ماہ کے لیے خاموشی اختیار کرلیں اور بنی گالہ منتقل ہو جائیں تو معاملات طے ہو سکتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے کچھ سینیئر وزراء جن کو لگتا ہے کہ ان کا پورٹ فولیو بدل دیا جائے گا یا ہمیں کابینہ سے نکال دیا جائے گا تو وہ لاہور جا کر رونا دھونا کرتے ہیں تو معاملہ ٹل جاتا ہے ! حامد میر pic.twitter.com/uPf6Gevwad
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) July 26, 2026
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق عمران خان کے پاس 2024ء اور 2025ء کے دوران مختلف نوعیت کی کئی ڈیلز کی پیشکش موجود تھی، تاہم انہوں نے کسی بھی پیشکش کو قبول نہیں کیا، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 2025ء تک کی صورتحال کے بارے میں وہ یقین سے بات کر سکتے ہیں، جب کہ 2026ء کے حوالے سے ان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں۔
حامد میر صاحب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ایک سینیئر رہنما انکے پاس آئے اور کہا وہ انکے ساتھ عمران خان صاحب کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ تین مہینے خاموش رہیں اور کوئی ڈیل کرلیں
حامد میر صاحب نے پوچھا آپ نے خان صاحب کو بات کی اس بارے میں تو انہوں نے کہا کہ وہ میری نہیں مان رہے…— Faisal Malik (@Pace_maker804) July 26, 2026
حامد میر نے آئینی معاملات پر بھی ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسی دستاویز دیکھی ہے جس میں آئینِ پاکستان میں متعدد ترامیم کا ایک جامع منصوبہ موجود ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے ٹیبل پر موجود ایک فائل میں ناصرف 28ویں آئینی ترمیم بلکہ 29ویں، 30ویں، 31ویں، 32ویں اور 33ویں آئینی ترامیم سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں۔
صحافت کی آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ان پر نو ماہ تک پابندی عائد رہی، تاہم اس وقت کسی نے ان کے حق میں آواز بلند نہیں کی، ماضی میں صحافت کی آزادی کے خلاف عناصر کا تعین نسبتاً آسان تھا لیکن اب بھی وہی طرزِ عمل جاری ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب بعض قوتیں “نامعلوم” رہ کر صحافیوں اور میڈیا پر دباؤ ڈالتی ہیں، آزادی صحافت کو درپیش چیلنجز آج بھی برقرار ہیں اور اس حوالے سے سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں صحافیوں کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ وہاں صحافت ایک خطرناک پیشہ بنتی جا رہی ہے، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے متعدد صحافی ماضی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ ہے کہ ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کو مؤثر سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
