ناکام حکومت کے باعث بلوچستان شدید ترین سیاسی و انتظامی بحران کا شکار: اے این پی و پشتونخوا میپ
غير عوامی حکمرانی اور غیر جمہوری پالیسیوں نے عوام کو عدم تحفظ اور بدامنی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا: رہنماؤں کا اظہار تشویش

مسلط کردہ بدامنی کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام جمہوری قوتیں متحد ہوں گی، آل پارٹیز کا اہم اجلاس جلد بلانے پر اتفاق
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر، اصغر خان اچکزئی سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال اور مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال نے ملاقات کی۔
ملاقات میں زیارت دھرنے کے بعد کی صورتحال، شہید جج عبدالحکیم کاکڑ کے واقعے، بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور عوام کو درپیش سنگین مشکلات و مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ غیر عوامی نمائندہ فارم 47 کی جعلی، ناکام اور غیر مؤثر حکمرانی، اور اس کے پشت پناہ غیر جمہوری قوتوں کی پالیسیوں کے باعث بلوچستان سیاسی، انتظامی اور امن و امان کے سنگین بحران سے دوچار ہو چکا ہے، جبکہ عوام عدم تحفظ، بے یقینی اور مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام جمہوری اور وطن دوست سیاسی قوتوں کے آل پارٹیز پلیٹ فارم کو مزید فعال اور مؤثر بنانے، باہمی روابط کو فروغ دینے، اور مشترکہ جمہوری و سیاسی جدوجہد کے ذریعے عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوئے مسلط کردہ بدامنی اور غیر جمہوری اقدامات و سازشوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عنقریب آل پارٹیز پلیٹ فارم کا اجلاس طلب کرکے موجودہ سیاسی و امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے اور عوامی جدوجہد کو مزید منظم، مؤثر اور ہم آہنگ انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبدالرشید خان ناصر اور ضلع کوئٹہ کے صدر ثناء اللہ کاکڑ بھی موجود تھے۔
