مولانا طارق جمیل کی 70 سال کی عمر میں بھی غیر معمولی فٹنس
یوگا میں حیرت انگیز مہارت کہ نوجوان اور بڑے ٹرینر بھی ایسی اسٹریچنگ نہ کرسکیں، طارق جمیل نے صحت، ورزش اور طرزِ زندگی کے راز بتا دیے

لاہور(قدرت روزنامہ)معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی 70 سال کی عمر میں بھی غیر معمولی فٹنس نے اپنے چاہنے کو حیران کرے رکھ دیا، یوگا میں حیرت انگیز مہارت کہ نوجوان اور بڑے ٹرینر بھی ایسی اسٹریچنگ نہ کرسکیں، مولانا طارق جمیل نے اپنی فٹنس، خوراک اور طرزِ زندگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روزانہ دو گھنٹے کارڈیو، سائیکلنگ اور اسٹرینتھ ٹریننگ کرتے ہیں، جبکہ گزشتہ چار برس سے روٹی اور چاول استعمال نہیں کیے۔
ڈاکٹر محمد عفان قیصر کے ساتھ گفتگو ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ اسٹریچنگ اور یوگا کی مشقیں بھی کرتے ہیں، جن کی بدولت ان کے جسم کی لچک آج بھی غیر معمولی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے مختلف اسٹریچنگ پوزیشنز بھی کرکے دکھائیں، جنہیں میزبان نے نوجوانوں کے لیے بھی مشکل قرار دیا۔
ڈاکٹر عفان قیصر نے کہا کہ بڑے بڑے فٹنس ٹرینرز بھی اس درجے کی لچک کا مظاہرہ نہیں کر پاتے، جبکہ مولانا طارق جمیل بغیر وارم اپ کے یہ مشقیں آسانی سے انجام دے رہے تھے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ وہ روزانہ اسٹریچنگ کرتے ہیں اور برسوں سے اپنی جسمانی فٹنس برقرار رکھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا وزن عموماً 72 سے 73 کلوگرام کے درمیان رہتا ہے، اور اگر سفر کے دوران وزن بڑھ جائے تو وہ فوری طور پر اسے دوبارہ معمول پر لے آتے ہیں۔ خوراک کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ دیسی گھی اور زیتون کا تیل استعمال کرتے ہیں، جبکہ فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، پیک شدہ جوس اور دیگر مصنوعی اشیا سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شہد کا شربت پیتے ہیں اور 1982 سے نہ صابن اور نہ ہی شیمپو استعمال کیا ہے۔ گفتگو کے دوران مولانا طارق جمیل نے روحانی اور جسمانی صحت کے تعلق پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان پر دو صحتیں فرض ہیں، ایک ایمان کی صحت اور دوسری جسم کی صحت۔ ان کے مطابق ایمان کی مضبوطی انسان کو گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی طاقت دیتی ہے، جبکہ صحت مند جسم اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں فاسٹ فوڈ اور مصنوعی مشروبات انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ ذہنی دباؤ سے نجات کا اصل راستہ اللہ تعالیٰ کی یاد ہے۔ ان کے بقول انسان جتنا اللہ کے قریب ہوگا، اتنا ہی ذہنی سکون حاصل کرے گا، کیونکہ حقیقی اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
