سمندروں میں 2 کروڑ ٹن سونا موجود، پھر بھی انسان اسے کیوں نہیں نکال سکتا؟


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)قدرت اپنے اندر ایسے بے شمار راز سموئے ہوئے ہے جو سائنس دانوں کو آج بھی حیران کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سمندروں میں اندازاً 2 کروڑ ٹن (20 ملین ٹن) سونا موجود ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اسے نکالنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سونا کسی خزانے یا ٹھوس شکل میں سمندر کی تہہ میں موجود نہیں بلکہ سمندری پانی میں انتہائی معمولی مقدار میں گھلا ہوا ہے، جسے عام طریقوں سے الگ کرنا ممکن نہیں۔

سمندر میں سونا کہاں سے آیا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ لاکھوں برسوں کے دوران دریاؤں نے چٹانوں سے معدنی ذرات بہا کر سمندروں تک پہنچائے۔ آتش فشانی سرگرمیوں اور سمندر کی تہہ میں ہونے والے ارضیاتی عمل نے بھی سونے کے ذرات کو سمندری پانی میں شامل کیا، جو وقت کے ساتھ پوری دنیا کے سمندروں میں پھیل گئے۔
نکالنا کیوں ممکن نہیں؟
سائنس دانوں کے مطابق ایک لیٹر سمندری پانی میں سونے کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے نکالنے کے لیے اربوں لیٹر پانی کو پراسیس کرنا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس عمل پر آنے والی لاگت حاصل ہونے والے سونے کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوگی، اسی لیے معاشی اعتبار سے یہ منصوبہ قابل عمل نہیں سمجھا جاتا۔
اگر تمام سونا نکال لیا جائے تو؟
ایک دلچسپ اندازے کے مطابق اگر سمندروں میں موجود تمام سونا کسی طرح نکال لیا جائے اور اسے دنیا کی موجودہ آبادی میں برابر تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کے حصے میں تقریباً 4 کلو گرام سونا آ سکتا ہے۔ تاہم سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف ایک نظریاتی تخمینہ ہے، کیونکہ عملی طور پر سمندروں سے اتنی بڑی مقدار میں سونا نکالنے کی کوئی مؤثر اور معاشی ٹیکنالوجی فی الحال موجود نہیں۔
مستقبل میں کیا یہ ممکن ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں معدنیات کو الگ کرنے کی جدید اور کم لاگت ٹیکنالوجی تیار ہو جاتی ہے تو سمندری پانی سے سونا نکالنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ منصوبہ سائنسی اور معاشی دونوں اعتبار سے انتہائی مشکل ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق سمندر اب بھی ایسے بے شمار راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں، جنہیں سمجھنے اور دریافت کرنے کے لیے تحقیق کا عمل مسلسل جاری ہے۔

WhatsApp
Get Alert