اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی، خرم دستگیر
محسن نقوی نے اپنے بیان میں ذاتی رائے کا اظہار کیا، اگر ان کے ذہن میں کوئی واضح اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے تو اسے عوام اور سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھ کر اس پر کھلی بحث ہونی چاہیے؛ ن لیگی رہنماء کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں صرف ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا، اگر ان کے ذہن میں کوئی باقاعدہ ایجنڈا موجود ہے تو اس پر کھل کر بحث ہونی چاہیے، حکومت اس سال دہشت گردی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں فیصلہ کن کارروائیاں کی جائیں گی۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک دوسرے کے مقابلے میں انتخابات لڑے، انتخابی مہم کے دوران گرما گرمی فطری بات ہے، تاہم تمام سیاسی جماعتوں کو شائستگی اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بیانات دینے چاہئیں اور بے بنیاد الزامات یا غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے موقع پر بھی پیپلزپارٹی کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا، تاہم صدر آصف علی زرداری کی موجودگی میں دونوں جماعتوں کا اتحاد برقرار رہے گا، آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی حکومت میں شامل ہوتی ہے یا اپوزیشن میں بیٹھتی ہے، یہ فیصلہ خود پیپلزپارٹی نے کرنا ہے، البتہ اگر وہ حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو مسلم لیگ ن اس کا خیرمقدم کرے گی۔
خرم دستگیر نے آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے، اگر پیپلزپارٹی دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہے تو اسے اپنے دعوؤں کے ثبوت بھی فراہم کرنا ہوں گے کیونکہ الیکشن کمیشن شواہد کی بنیاد پر ہی تحقیقات کرے گا، جب کہ آزاد کشمیر الیکشن میں 10 اگست کو جب انتخابات کا تیسرا مرحلہ بھی مکمل ہوجائے گا تو اس کے بعد تمام صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ بیان میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا، تاہم اگر ان کے ذہن میں کوئی واضح اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے تو اسے عوام اور سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھ کر اس پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔
