آبنائے ہرمز کھلی ہے یا ابھی کھلنی ہے؟ امریکی سول اور فوجی قیادت کے متضاد بیانات نے الجھن بڑھا دی

تهران(قدرت روزنامہ)آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر امریکی حکام کے بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف امریکی فوج کہہ رہی ہے کہ بحری راستہ مکمل طور پر کھلا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار مستقبل میں اسے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کی مبینہ دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایک ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کو بحفاظت اس راستے سے گزرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔
سینٹکام کے مطابق بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے پانے کا امکان ہے جس کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں اور توقع ہے کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔
ان کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت ایران تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کرے گا اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اسی معاملے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا مؤقف بھی کچھ مختلف نظر آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے ساتھ بحری آمدورفت بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدرٹرمپ نے کہا کہ معاملہ جلد کسی ایک طرف ہوجائے گا یہ کوئی پیچیدہ چیز نہیں آبنائے ہرمز کھلنا پہلا مرحلہ ہے اور دوسرے مرحلے میں نیوکلیئر معاملے پر بات ہو گی۔
ادھر ایران کی جانب سے ان امریکی دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ تہران پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کرچکا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
یوں ایک ہی معاملے پر واشنگٹن سے آنے والے مختلف بیانات نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز پہلے ہی کھلی ہے تو پھر اسے دوبارہ کھولنے کے معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
اور اگر معاہدہ ابھی ہونا باقی ہے تو راستہ مکمل طور پر کھلا ہونے کا دعویٰ کس تناظر میں کیا جا رہا ہے؟ یہ سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
