رپورٹر پر مبینہ پولیس تشدد پر حامد میر کی شدید تنقید، صحافیوں کیلئے خوف کا پیغام قرار دے دیا

لاہور (قدرت روزنامہ) معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے لاہور میں تحریک انصاف کے احتجاج کی کوریج کے دوران ایک ٹی وی رپورٹر پر پنجاب پولیس کے مبینہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایک صحافی پر سرِعام تشدد اور بعد ازاں اسے حراست میں لینا نہ صرف صحافتی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ہے بلکہ یہ میڈیا برادری کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حامد میر نے کہا کہ ایک اکیلا صحافی پنجاب پولیس کے ڈنڈوں اور گھونسوں کا سامنا کر رہا تھا، کیا پولیس اہلکار اتنی شدید مارپیٹ اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں؟ چند سیکنڈ کی ویڈیو پنجاب کی اس صورتحال کی عکاسی کر رہی ہے جسے بہترین طرزِ حکمرانی کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اگر پنجاب میں صحافیوں کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے تو دیگر صوبوں میں میڈیا نمائندوں کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
ایک اکیلا صحافی پنجاب پولیس کے ڈنڈوں اور گھونسوں کا سامنا کر رہا ہے ذرا سوچیئے کہ کیا اتنی مار پٹائی پولیس والے اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں؟ یہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اس پنجاب کی تصویر دکھا رہی ہے جس کی گورننس کو ایک مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اگر پنجاب میں یہ حال ہے تو باقی صوبوں میں… https://t.co/hztCllGsC5
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 5, 2026
ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب حکومت پاکستان یومِ استحصالِ کشمیر منا رہی ہے، دوسری جانب پنجاب میں صحافت کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، آج کا دن حکومتِ پنجاب نے “یومِ استحصالِ صحافت” بنا دیا ہے، آج ٹی وی کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان پر مبینہ تشدد کے واقعے کے خلاف لاہور پریس کلب نے مذمتی بیان جاری کیا ہے، اس مذمتی بیان کے بعد پریس کلب کے عہدیداران بھی دباؤ یا کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
آج حکومت پاکستان “یوم استحصال کشمیر” منا رہی ہے لیکن حکومت پنجاب نے آج کا دن “ یوم استحصال صحافت” بنا دیا ہے آج TV کے رپورٹر ناطق ریحان پر پنجاب پولیس کے وحشیانہ تشدد کے خلاف لاہور پریس کلب نے مذمتی بیان جاری کر دیا ہے جس کے بعد پریس کلب کے عہدیداران کو بھی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے pic.twitter.com/Ysh0Rdpt3F
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 5, 2026
سینئر صحافی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کو بتایا گیا تھا کہ متعلقہ شخص صحافی ہے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، اس کے باوجود مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا گیا، اسے گرفتار کرکے قیدیوں کی گاڑی میں منتقل کیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا، اس کارروائی کا مقصد صرف ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پوری صحافی برادری کو ایک پیغام دینا تھا اب صحافی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگلی باری کس کی ہوگی۔
پنجاب پولیس کوبتایا بھی گیا یہ صحافی ہے اسکو مت مارو لیکن انہوں نے ایک نہ سنی سرعام ایک صحافی کے ساتھ مارپیٹ کر کے قیدیوں کی وین میں صحافی کو بند کر دیا یہ ایک پیغام تھا جو سب صحافیوں کو دینا تھا پیغام دینے کے بعد اس صحافی کو چھوڑ دیا اب سب صحافی انتظار کریں اگلی باری کس کی ہے؟ pic.twitter.com/HMhonCKQL7
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 5, 2026
