عمران خان کے پیغام سے متعلق دعوے پر اکبر ایس بابر کا مؤقف سامنے آگیا

عمران خان کی جانب سے آنے والے پیغام پر ناراض اور بانی ارکان کا ردعمل مثبت رہا ہے، اگر عمران خان میرے گھر آتے ہیں تو ان کا گرمجوشی سے استقبال کروں گا اور گلے لگاؤں گا؛ پی ٹی آئی بانی رہنماء کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے جیل سے اپنے سابق دیرینہ ساتھی اور پارٹی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، اس معاملے پراکبر ایس بابر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ پیغام عمران خان کے ایک دیرینہ باہمی دوست کے ذریعے پہنچایا گیا جو خود بھی جیل میں ہیں۔
جیو نیوز سے گفتگو میں پیغام ملنے کے حوالے سے اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے اپنے اس پیغام میں کہا کہ جب وہ جیل سے رہا ہوں گے تو سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے، اس کے علاوہ عمران خان نے پی ٹی آئی کے ابتدائی دور سے وابستہ ارکان، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں پی ٹی آئی کے ابتدائی دور میں ساتھ دینے والے افراد کو پارٹی کا اثاثہ اور اپنے مخلص ساتھی قرار دیا اور پیغام میں کہا کہ پارٹی کی بنیاد رکھنے اور ابتدائی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والے متعدد افراد کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی اور اب ضرورت ہے کہ ان لوگوں کو دوبارہ قریب لایا جائے۔ اکبر ایس بابر نے بتایا کہ عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بعد انہوں نے پی ٹی آئی کے ناراض بانی رہنماؤں اور کارکنوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں، اس سلسلے میں سابق پی ٹی آئی پنجاب سینئر نائب صدر رانا سہیل کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بھی قائم کردی گئی، جس میں پی ٹی آئی کے سابق بانی رہنما امین ذکی، فیصل پیرزادہ اور آئی ایس ایف کے بانی رہنما آصف احمد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے ان ابتدائی ساتھیوں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر پارٹی سے ناراض ہوئے یا علیحدہ ہوگئے تھے، عمران خان کی جانب سے آنے والے پیغام پر ناراض اور بانی ارکان کا ردعمل مثبت رہا ہے، عمران خان کے ساتھ میرا بھی کوئی ذاتی اختلافات نہیں بلکہ سیاسی اختلافات رہے ہیں، اگر عمران خان میرے گھر آتے ہیں تو ان کا گرمجوشی سے استقبال کروں گا اور انہیں گلے لگاؤں گا۔
اکبر ایس بابر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی کوشش کسی فرد کے خلاف ذاتی محاذ آرائی نہیں بلکہ ان تمام افراد کو دوبارہ متحد کرنا ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کے قیام اور ابتدائی جدوجہد میں اپنا وقت، توانائی اور قربانیاں دیں، پارٹی کے ابتدائی ساتھیوں نے ایک نظریے کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی تھی اور اب ضرورت ہے کہ ان تمام لوگوں کو دوبارہ قریب لایا جائے، پی ٹی آئی کے ناراض اور بانی ارکان کو متحد کرنے کی کوششوں کے بعد اگلے ماہ لاہور میں ایک کنونشن بھی منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد ابتدائی ساتھی پارٹی سے ایسے افراد کی وجہ سے دور ہوئے جو اقتدار اور عہدوں کے حصول کے خواہش مند تھے، تاہم عمران خان کے حالیہ پیغام کے بعد ان افراد کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، عمران خان کے پیغام کے بعد پی ٹی آئی کے ابتدائی اور ناراض رہنماؤں کے درمیان رابطوں میں تیزی آگئی ہے، آنے والے دنوں میں مزید اہم رہنماؤں سے رابطے اور ملاقاتیں متوقع ہیں۔

WhatsApp
Get Alert