بلاجواز حراست، رشوت خوری اور قانونی چارہ جوئی کے بغیر شہریوں کو قید رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے:پشتونخواہ میپ

چمن (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع چمن کے ضلعی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں پاک افغان ڈیورنڈ لائن پر تجارتی راستے کے ذریعے آمدورفت کرنے والے مقامی شہریوں کے ساتھ فرنٹیئر کور کی جانب سے روا رکھے جانے والے رویے کو آئین و قانون کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ضلعی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار پیدل آنے جانے والے مقامی شہریوں کو ایف سی 143 ونگ کے اہلکاروں کی جانب سے بلاجواز پکڑا جا رہا ہے۔ بعض شہریوں سے رقم لے کر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ متعدد افراد کو عرب قلعہ سمیت دیگر قلعوں اور مختلف چیک پوسٹوں پر ہفتوں تک بغیر کسی قانونی کارروائی کے زیر حراست رکھا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ زیر حراست افراد کے خلاف نہ تو فارن ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، نہ انہیں پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ پارٹی نے اسے ”ماورائے آئین اقدامات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ملکی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق دونوں کے منافی ہے۔پشتونخواملی عوامی پارٹی نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پر مقامی آبادی کی آمدورفت کے لیے واضح اور قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے تو اسے آئین میں دیے گئے طریقے کے مطابق گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر ہراساں کیا جائے۔پارٹی واضح کرتی ہے کہ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر ٹھیک نہ کیا گیا تو پارٹی عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کا راستہ اپنائے گی۔
