سنجاوی، زیارت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید 2 نوجوانوں کی نمازِ جنازہ ادا، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک
ناکہ بندی کے دوران فائرنگ سے 2 نوجوان شہید اور 2 زخمی ہوئے، شاہراہوں کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، علاقہ مکینوں کا مطالبہ

سنجاوی (قدرت روزنامہ) زیارت کے علاقے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سنجاوی کے دو نوجوانوں احسان اللہ اور محمد یونس کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد، علاقہ مکینوں، قبائلی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد دونوں شہدا کو ان کے آبائی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا۔ شہدا کی میتیں جب آبائی علاقے پہنچیں تو ہر آنکھ اشکبار تھی، جبکہ علاقے میں سوگ کی فضا قائم رہی۔ذرائع کے مطابق احسان اللہ اور محمد یونس گزشتہ شب موٹر سائیکلوں پر سنجاوی سے کوئٹہ کی جانب جا رہے تھے کہ زیارت کے علاقے میں مسلح افراد کی جانب سے مبینہ طور پر ناکہ بندی کی گئی۔ پہاڑی علاقے میں موجود مسلح افراد نے موٹر سائیکل سوار نوجوانوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں احسان اللہ اور محمد یونس موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے واقعے میں دو نوجوان زخمی بھی ہوئے۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ زخمی نوجوانوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام نے کارروائی شروع کر دی اور واقعے کے محرکات اور ملوث مسلح افراد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔علاقہ مکینوں نے واقعے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مثر کارروائی کی جائے۔
