سول اعزازات کی تقسیم پر سنگین سوالات اٹھ گئے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) حکومت کی جانب سے 14 اگست کو اعلان کردہ قومی سول ایوارڈز کے خلاف پاکستانی شہری اور ایکٹوسٹ عشبہ کامران نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو باقاعدہ خط تحریر کر کے حاضر سروس بیوروکریٹس، وفاقی سیکرٹریز اور وزراء کو دیے گئے اعزازات فوری واپس لینے کا پرزور مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق صدرِ مملکت کے نام لکھے گئے خط میں عشبہ کامران نے موقف اپنایا ہے کہ حکومت کی جانب سے تنخواہ دار بیوروکریٹس اور وزراء کو ان کی معمول کی سرکاری ذمہ داریوں پر قومی اعزازات سے نوازنا آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، اگست 2025ء میں بھی ایوانِ صدر کو اس حوالے سے باضابطہ یاد دہانی بھیجی گئی تھی لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے رواں برس 14 اگست 2026ء کو ایک بار پھر غیر آئینی قدم اٹھایا۔

خط میں قانونی اور آئینی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 259(2) کے تحت قومی ایوارڈز صرف شجاعت، مسلح افواج کی شاندار خدمات، تعلیمی قابلیت اور غیرمعمولی و بے لوث عوامی خدمات تک محدود ہیں، قانون کی نظر میں “عوامی خدمت” کا مطلب غیرمعمولی اور ایثار پر مبنی کارنامہ ہے، نہ کہ بیوروکریٹس اور وزراء کی وہ معمول کی سرکاری ڈیوٹیاں جن کی وہ ماہانہ تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔
مزید برآں “دی ڈیکوریشنز ایکٹ 1975ء” اور اس سے متعلقہ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ قانون سول اعزازات کو انتظامی عہدوں، سینیارٹی یا سرکاری ملازمت سے منسلک کرنے کی سخت ممانعت کرتا ہے، حاضر سروس حکومتی عہدیداروں کو تمغے دینا مفادات کے شدید تصادم یعنی Conflict of Interest اور پسند و ناپسند کے کلچر کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 5(2) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی پابندی کرنا ریاست کے سربراہ سمیت ہر شہری پر لازم ہے، خط میں دو بنیادی اور اہم مطالبات پیش کرتے ہیں کہ ایک انتظامی حکم نامہ جاری کر کے 14 اگست 2026ء کی فہرست میں سے ان تمام حاضر سروس بیوروکریٹس اور وزرا کے ایوارڈز فوری طور پر منسوخ کیے جائیں جنہیں یہ اعزازات ان کی سرکاری ذمہ داریوں پر دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کو فوری ہدایت جاری کی جائے کہ مستقبل میں بھی معمول کی انتظامی و سرکاری ڈیوٹی انجام دینے والے افسران کو سول ایوارڈز کی نامزدگیوں سے نااہل قرار دیا جائے، اس خط کی کاپی کابینہ سیکرٹری، کابینہ ڈویژن اسلام آباد کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

WhatsApp
Get Alert