کوئٹہ میں مہنگائی کا طوفان اور بے روزگاری میں اضافہ، عام شہریوں کی زندگی مشکل ترین ہوگئی آٹے کی قیمت میں 25 اور سبزیوں میں 30 فیصد اضافہ، غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئی

صنعتوں کا فقدان اور سرمایہ کاری کی کمی مہنگائی کے بنیادی اسباب ہیں: معاشی ماہرین


پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی جائیں اور روزگار کے نئے منصوبے شروع کیے جائیں: شہریوں کا مطالبہ
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عام شہریوں کی زندگی دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے‘ آٹے، گھی، دالوں اور سبزیوں سمیت بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں آٹے کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ، سبزیوں کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ اور دیگر اشیاء کی قیمتیں میں بھی 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے‘شہر کے اکثر بازاروں میں عام دکانداروں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں قابو سے باہر ہو رہی ہیں‘کوئٹہ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں‘ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملازمت کے لیے در بدر ہیں‘ متعدد چھوٹے کاروبار مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث بند ہو چکے ہیں۔ مزدور طبقہ کہتا ہے کہ دیہاڑی کے مواقع کم اور اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں‘ایک مقامی شہری عبدالرحمن نے بتایاگھر کا خرچ چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔ بچوں کی تعلیم، کرایہ اور کھانے پینے کے اخراجات پورے کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے ایک مزدور خاتون زرینہ بی بی کا کہنا ہے پہلے روزانہ مزدوری سے گزارہ ہو جاتا تھا، اب دیہاڑی بھی نہیں ملتی اور کھانے پینے کی چیزیں آسمان کو چھو رہی ہیںماہرین کی رائے معاشی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں صنعتوں کا فقدان اور سرمایہ کاری کی کمی مہنگائی اور بے روزگاری کے بنیادی اسباب ہیں۔ اگر فوری طور پر صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو سہولیات نہ دی گئیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی جائیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ مہنگائی اور بے روزگاری کا بوجھ کم ہو۔

WhatsApp
Get Alert