عمران خان 16 ستمبر تک شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں رہیں گے
سپریم کورٹ نے فیملی سے ہفتے میں ایک دن ملاقات کرانے کا بھی حکم دے دیا، بہنوں کی بھائی سے ملاقات کرانا کوئی احسان نہیں اُن کا بنیادی حق ہے؛ جسٹس شاہد وحید کے ریمارکس

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران حکم دیتے ہوئے جیل انتظامیہ کو عمران خان کی فیملی سے ہفتے میں ایک دن باقاعدگی سے ملاقات کرانے کی بھی ہدایت کر دی۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں اور حقوق کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے جب جیل میں ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں تو ملاقات کرنے والے افراد جیل رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور باہر آ کر میڈیا پر سیاسی گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔
اس مؤقف پر بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’اگر وہ کسی قاعدے یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کیا ریاست بھی قانون توڑنا شروع کر دے گی؟ بہنوں کی اپنے بھائی سے ملاقات کرانا کسی کا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی، اخلاقی اور قانونی حق ہے، ریاست کا کام بالکل نہیں کہ وہ خود قانون کی خلاف ورزی کرے‘۔
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طبی سہولیات اور ہسپتال منتقلی کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عمران خان آئندہ سماعت تک شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ہی رہیں گے، کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی، عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے علاج اور صحت کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاست کرنے سے روک دیا۔
بتایا جارہا ہے کہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید اعتراض اٹھایا گیا، اس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو اس معاملے پر باقاعدہ نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مؤقف سنا گیا، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کو سنتے ہوئے وفاق کے مؤقف کو بھی اپنے باقاعدہ حکم نامے کا حصہ بنا لیا اور سماعت 16 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔
قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان کی ملاقاتوں، قید کی صورتحال اور نجی ہسپتال میں مکمل طبی معائنے سے متعلق دائر درخواستوں پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، سماعت کے دوران کمرہ عدالت تحریکِ انصاف کے ارکانِ پارلیمان، مرکزی قیادت اور کارکنان سے مکمل طور پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو گارنٹی دی کہ اگر عمران خان سے ان کی بہن اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کرائی جاتی ہے تو وہ باہر آ کر کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کریں گے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بانی پی ٹی آئی کی اصل صحت سے متعلق معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، کل جو طبی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس میں واضح لکھا ہے کہ وہ شددی بے چینی اور دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہیں، اب تو عوام نے ان کی زندگی کے ثبوت مانگنا شروع کر دیے ہیں۔ وکیل نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’1979ء میں جو کچھ ہوا، اس کے سنگین نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے، عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کروایا جائے‘ سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ’ایک بات پہلے سے طے کرلیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی‘۔
جسٹس شاہد وحید نے وکیل سے استفسار کیا کہ ’اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملاقات کے بعد باہر آ کر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟‘ جس پر عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ ’وہ اپنی موکلہ عظمیٰ خان کی ہدایت کے مطابق عدالت کو باقاعدہ گارنٹی دے رہے ہیں‘، جس پر سپریم کورٹ نے عمران خان کا اب تک کا تمام تر میڈیکل ریکارڈ طلب کر لیا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ صرف رپورٹ کی سمری جمع کرائی گئی، تمام تر مکمل ریکارڈ جمع کرایا جائے اور جب یہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ بالکل خفیہ نہیں رہے گا‘۔
