ہمیں نوٹس ہی جاری نہیں ہوا، وفاقی حکومت کا عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حکم پر اعتراض

سپریم کورٹ نے حکومت کا اعتراض بھی حکم نامے کا حصہ بنا دیا، مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی گئی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طبی سہولیات اور ہسپتال منتقلی کے کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عمران خان آئندہ سماعت تک شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ہی رہیں گے، کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے علاج اور صحت کے معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاست کرنے سے روک دیا ہے، عدالتِ عظمیٰ نے اپنے احکامات میں واضح کیا کہ ہسپتال میں قیام اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عمران خان کے ہمراہ موجود ہوں گے، عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے اور وہاں جاری طبی معائنے و علاج کے تمام تر اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی۔
بتایا جارہا ہے کہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید اعتراض اٹھایا گیا، اس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو اس معاملے پر باقاعدہ نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مؤقف سنا گیا، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کو سنتے ہوئے وفاق کے مؤقف کو بھی اپنے باقاعدہ حکم نامے کا حصہ بنا لیا اور سماعت 16 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔
معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان کی ملاقاتوں، قید کی صورتحال اور نجی ہسپتال میں مکمل طبی معائنے سے متعلق دائر درخواستوں پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، سماعت کے دوران کمرہ عدالت تحریکِ انصاف کے ارکانِ پارلیمان، مرکزی قیادت اور کارکنان سے مکمل طور پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو گارنٹی دی ہے کہ اگر عمران خان سے ان کی بہن اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کرائی جاتی ہے تو وہ باہر آ کر کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کریں گے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بانی پی ٹی آئی کی اصل صحت سے متعلق معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے، کل جو طبی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس میں واضح لکھا ہے کہ وہ شددی بے چینی اور دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہیں، اب تو عوام نے ان کی زندگی کے ثبوت مانگنا شروع کر دیے ہیں۔ وکیل نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’1979ء میں جو کچھ ہوا، اس کے سنگین نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے، عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کروایا جائے‘ سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ’ایک بات پہلے سے طے کرلیں کہ پی ٹی آئی بانی کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی‘۔
جسٹس شاہد وحید نے وکیل سے استفسار کیا کہ ’اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملاقات کے بعد باہر آ کر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟‘ جس پر عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ ’وہ اپنی موکلہ عظمیٰ خان کی ہدایت کے مطابق عدالت کو باقاعدہ گارنٹی دے رہے ہیں‘، جس پر سپریم کورٹ نے عمران خان کا اب تک کا تمام تر میڈیکل ریکارڈ طلب کر لیا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ صرف رپورٹ کی سمری جمع کرائی گئی، تمام تر مکمل ریکارڈ جمع کرایا جائے اور جب یہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ بالکل خفیہ نہیں رہے گا‘۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے اس بیان پر کہ ’اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی‘، جسٹس شاہد وحید نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو کیا آپ بھی قانون توڑیں گے؟ بہنوں کی اپنے بھائی سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی اور قانونی حق ہے، اور ریاست کا کام بالکل نہیں کہ وہ خود قانون کی خلاف ورزی کرے‘۔

WhatsApp
Get Alert