عدالت کا عمران خان کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم دے دیا۔ اےآروائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی و علاج سے متعلق کیس کے تحریری حکمنامے میں قرار دیا کہ بانی کو اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت دی جائے۔
مزید برآں میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد اڈیالہ جیل میں نورین نیازی کی بھائی عمران خان سے ملاقات ہوگئی ہے۔ نورین نیازی ایک عرصے بعد عمران خان کو دیکھ کر جذباتی ہوگئیں۔ نورین نیازی کی ملاقات 5 بج کر 10 منٹ پر کانفرنس روم میں ہوئی، ملاقات کا دورانیہ 14 منٹ تھا۔ بتایا گیا ہے کہ قاسم خان کو جیل کے پارکنگ ایریا میں ہی روک دیا گیا تھا۔
نورین نیازی جیل میں جب عمران خان سے ملاقات کے بعد روانہ ہوئیں تو صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی ملاقات ہوگئی ہے؟ جس کے جواب میں نورین نیازی نے کہا کہ جی ملاقات ہوگئی ہے۔ یاد رہے دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس سے تمام تر شکوک و شبہات اور افواہوں کا خاتمہ ہو گیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اعلیٰ عدلیہ نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلے دو دنوں کے اندر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے، حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات، گرفتاریوں، زیرِ سماعت ٹرائلز اور سزا کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال انتظامیہ کی مشاورت سے ایک اعلیٰ سطح کا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جس میں معالج، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن کے ماہر، ماہرِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے جو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج کریں گے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی معائنے اور علاج کے عمل کے دوران ساتھ رہنے کی اجازت ہوگی۔
بریکنگ: عمران خان کو 2 روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ آ گیا pic.twitter.com/tiIXLyKcNy
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) August 18, 2026
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی سہولیات اور علاج کے تمام تر اخراجات عمران خان خود یا ان کی فیملی برداشت کرے گی، آئندہ سماعت تک عمران خان کی فیملی کا کوئی رکن، تحریکِ انصاف کا رہنما، یا ان کا وکیل بانی پی ٹی آئی کی صحت کی صورتحال یا میڈیکل رپورٹس کو میڈیا یا عوام کے ساتھ بالکل شیئر نہیں کرے گا، حکومت اور متعلقہ حکام ہفتے میں ایک بار عمران خان کی ان کی فیملی سے ملاقات یقینی بنائیں گے، حکومت اور متعلقہ حکام عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات چیت کی سہولت فراہم کریں گے
