سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور حکومت بلوچستان کے درمیان نوجوانوں اور محروم طبقات کو آئی ٹی، فنی تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
کوئٹہ میں ویمن آئی ٹی لیب اور آئی ٹی پارک کا قیام، خضدار میں ایجوکیشن سینٹرز بنائے جائیں گے

کراچی (ڈیلی قدرت کوئٹہ) سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور محکمہ سماجی بہبود، حکومت بلوچستان کے درمیان صوبے کے نوجوانوں، خواتین، خصوصی افراد اور محروم طبقات کو جدید اآئی ٹی، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، زبان اور روزگار سے منسلک مہارتیں فراہم کرنے اور علاج و معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے جامع مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ معاہدوں پرسیلانی کے ٹرسٹی عارف لاکھانی ، سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد غزال ، اور وفد کے سربراہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، حکومت بلوچستان عصمت اللہ قریش نے ایک اجلاس کے دوران دستخط کیے۔اس موقع پر ٹرسٹی ابو فیصل ،سیلانی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شاہد روف، میڈیکل ایڈمنسٹریٹر وزیر رضا،سیلانی سی ایس آر کے فرقان اسلم ،بلوچستان کے وفد میں سیلانی کوئٹہ ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ سہیل اکبر ، داوئود خان بھی موجود تھے۔اجلاس میں صحت کے شعبے میں بھی سیلانی اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے بلوچستان کے عوام کو علاج فراہم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔مفاہمت کی ان یادداشتوں کا مقصد بلوچستان میں صحت عامہ کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کو وسعت دینے کے ساتھ نوجوانوں کو روزگار، فری لانسنگ، انٹرپرینیورشپ اور خود انحصاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ایم او یو کے تحت مذمل ہائو سنگ اسکیم، نواکلی کوئٹہ میں خواتین کے لیے تقریباً 30 کمپیوٹرز پر مشتمل ویمن آئی ٹی لیب و انکیوبیشن اسپیس قائم کی جائے گی، جہاں خواتین کو جدید ڈیجیٹل اسکلز، فری لانسنگ، اسٹارٹ اپ اور کاروباری تربیت فراہم کی جائے گی۔اسی طرح جناح روڈ آرٹس کونسل بلڈنگ، کوئٹہ کی دو منزلوں پر آئی ٹی پارک، ڈیجیٹل لائبریری اور ٹریننگ فیسلٹی قائم ہوگی، جہاں آئی ٹی بوٹ کیمپس اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔منصوبے میں بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تقریباً 60 سماعت سے محروم اور دیگر مستحق طلبہ کو خصوصی آئی ٹی و فنی تربیت دے کر ماسٹر ٹرینرز تیار کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے تاکہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں مزید نوجوانوں کو تربیت دے سکیں۔معاہدے کے تحت سماعت سے محروم طلبہ کے لیے خصوصی آئی ٹی تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے، جن کے قیام اور طلبہ تک رسائی میں محکمہ سماجی بہبود بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر ڈائریکٹوریٹ اور اس کے ڈیف اسکولز کے ذریعے سہولت فراہم کرے گا۔خضدار میں تین نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے جبکہ طلبہ کے لیے ہاسٹل، انگلش لینگویج سینٹر اور متعلقہ آئی ٹی سہولتوں کے لیے 30 کلوواٹ سولر سسٹم کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔مزید برآں گورنمنٹ شفیق احمد خان شہید اسکول، ٹیل گودام، کوئٹہ میں ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اورآئی ٹی لیب قائم کی جائے گی، جہاں ویب و ایپ ڈیولپمنٹ، UI/UX، ا?رٹیفیشل انٹیلی جنس اور جنریٹو AI کے ساتھ موبائل و کمپیوٹر ریپیئرنگ، CCTV، سولر، الیکٹریکل، پلمبنگ اور دیگر مارکیٹ سے ہم آہنگ ہنر سکھائے جائیں گے۔دونوں اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جدید تعلیم اور ہنرمندی کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو مقامی اور عالمی روزگار کی منڈی سے جوڑ کر انہیں بااختیار اور خودکفیل بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
