پی ٹی آئی عدلیہ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی عدلیہ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے عمران خان کی صحت کے حوالے سے فیصلے پر ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کا عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی اور فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں چیک اپ اور علاج کا انصاف پر مبنی فیصلہ قابل ستائش ہے۔
اُمید ہے اس پر عملدرآمد جلد ازجلد شروع ہو جائے گا۔ سرکاری رپورٹس عمران خان کی صحت کا احوال بتا رہی ہیں کہ کیسے جیل میں ان کی صحت خراب کی گئی- یہ فیصلہ فروری میں ہی ہو جانا چاہییے تھا جب سے ہم مسلسل ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں چیک اپ اور علاج کا مطالبہ کر رہے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف عدلیہ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کی صحت پر کوئی سیاست نہیں کرے گی۔
ہمیں بھی یہی اُمید ہے کہ دوسری طرف سے بھی عدلیہ کی تکریم اور احترام کا خیال رکھا جائے گا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروانا ججز کا کام ہے، اور امید ہے کہ وہ اپنا فرض نبھائیں گے۔ مزید برآں اے آروائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد اڈیالہ جیل میں نورین نیازی کی بھائی عمران خان سے ملاقات ہوگئی ہے۔ نورین نیازی ایک عرصے بعد عمران خان کو دیکھ کر جذباتی ہوگئیں۔
نورین نیازی کی ملاقات 5 بج کر 10 منٹ پر کانفرنس روم میں ہوئی، ملاقات کا دورانیہ 14 منٹ تھا۔ بتایا گیا ہے کہ قاسم خان کو جیل کے پارکنگ ایریا میں ہی روک دیا گیا تھا۔ نورین نیازی جیل میں جب عمران خان سے ملاقات کے بعد روانہ ہوئیں تو صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی ملاقات ہوگئی ہے؟ جس کے جواب میں نورین نیازی نے کہا کہ جی ملاقات ہوگئی ہے۔ یاد رہے دوسری جانب سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس سے تمام تر شکوک و شبہات اور افواہوں کا خاتمہ ہو گیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اعلیٰ عدلیہ نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلے دو دنوں کے اندر شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے، حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات، گرفتاریوں، زیرِ سماعت ٹرائلز اور سزا کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال انتظامیہ کی مشاورت سے ایک اعلیٰ سطح کا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جس میں معالج، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن کے ماہر، ماہرِ چشم اور ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے جو عمران خان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج کریں گے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی معائنے اور علاج کے عمل کے دوران ساتھ رہنے کی اجازت ہوگی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی سہولیات اور علاج کے تمام تر اخراجات عمران خان خود یا ان کی فیملی برداشت کرے گی، آئندہ سماعت تک عمران خان کی فیملی کا کوئی رکن، تحریکِ انصاف کا رہنما، یا ان کا وکیل بانی پی ٹی آئی کی صحت کی صورتحال یا میڈیکل رپورٹس کو میڈیا یا عوام کے ساتھ بالکل شیئر نہیں کرے گا، حکومت اور متعلقہ حکام ہفتے میں ایک بار عمران خان کی ان کی فیملی سے ملاقات یقینی بنائیں گے، حکومت اور متعلقہ حکام عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات چیت کی سہولت فراہم کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert