اسد قیصر دورانِ حراست نواز شریف کے علاج کی تفصیلات تاریخوں کے ساتھ سامنے لے آئے
کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی کا بیان

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنماء اور سابق سپیکر اسد قیصر نے وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کو ان کا آئینی و قانونی حق قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسد قیصر نے ن لیگی رہنماؤں کے رویئے پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی دورانِ قید ہسپتال منتقلی اور علاج کی تفصیلات بتائیں کہ 22 جنوری 2019ء کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں 1 دن، 2 سے 7 فروری 2019 تک سروسز ہسپتال لاہور میں 5 دن، 15 سے 25 فروری 2019ء جناح ہسپتال لاہور میں 10 دن تک مقیم رہے۔
اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ اگر نہیں پتا تو میں بتا دیتا ہوں۔
22 جنوری 2019: پنجاب…— Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) August 19, 2026
انہوں نے بتایا کہ 26 مارچ سے 7 مئی 2019ء جاتی عمرہ، ذاتی رہائشگاہ لاہور میں 42 دن، 21 اکتوبر سے 6 نومبر 2019ء سروسز ہسپتال لاہور 16 دن، 6 نومبر سے 19 نومبر 2019ء جاتی عمرہ ذاتی رہائش گاہ جہاں آئی سی یو کی سہولت موجود تھی 13 دن، 19 نومبر 2019ء اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے علاج کے لیے چار ہفتوں کی اجازت جس کے بعد وہ چار سال بعد واپس آئے۔
اسد قیصر نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی کی اور فیصلوں پر تنقید کی، جبکہ تحریکِ انصاف نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کیا اور انسانی حقوق کی بات کی ہے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اپوزیشن کے کسی رہنما پر کوئی نیا کیس نہیں بنایا گیا بلکہ تمام کیسز پرانے تھے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے ان کی ہسپتال منتقلی کی حمایت کریں۔
