سسٹم کو پوری طرح ایکسپوز ہونے دیں، جسٹس نعیم اختر افغان
سسٹم سے کیس غائب ہوسکتا ہے ہم نہیں، ہم یہاں موجود ہیں بشرطِ زندگی آئندہ بھی ہوں گے؛ دوران سماعت ریمارکس

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کے وکلاء ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے تاخیر اور کیس کی عدم سماعت پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا، اس دوران جسٹس نعیم اختر افغان کے غیرمعمولی ریمارکس بھی سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتوں میں سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس کے باوجود حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جب بھی سپریم کورٹ اس معاملے پر سماعت یا فیصلہ کرنے لگتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اچانک کیس کی تاریخ مقرر کردی جاتی ہے اور اب بھی 8 ستمبر کی تاریخ رکھی گئی ہے‘۔
بریکنگ نیوز: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس میں سپریم کورٹ کی اسلام آباد ہائیکورٹ سے متعلق اہم ترین اور غیرمعمولی آبزرویشنز !!!
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتے میں سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،… pic.twitter.com/yEJWs8hiF6
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) August 20, 2026
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف دیا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کا اپنا ایک مقررہ سسٹم ہے جس کے تحت مقدمات سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں‘، اس دلیل پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے سسٹم پر ہم سے کوئی رائے نہ ہی لیں تو بہتر ہے‘، انہوں نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’فیصل صدیقی صاحب! سسٹم کو پوری طرح ایکسپوز ہونے دیں‘۔
وکیل فیصل صدیقی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’ابھی تک ہائیکورٹ کی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، ایسا نہ ہو کہ سسٹم کے ذریعے کیس ہی غائب کر دیا جائے‘ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ’سسٹم سے کیس غائب ہو سکتا ہے لیکن ہم یہاں موجود ہیں اور بشرطِ زندگی آئندہ بھی موجود رہیں گے، آپ پریشان نہ ہوں‘، بینچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وضاحت کی کہ ’سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو صرف قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا کہا، ہائیکورٹ چاہے تو ان درخواستوں کو خارج بھی کرسکتی ہے‘۔
سماعت کے اختتام پر جسٹس نعیم اختر افغان نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’آئندہ سماعت پر یا تو ہم خود اس کیس کا فیصلہ کر رہے ہوں گے یا پھر درخواست گزار اپنا کیس واپس لے رہے ہوں گے‘، اس کے ساتھ ہی اعلیٰ عدلیہ نے کیس کی مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔
