عمران خان کی مقبولیت ختم کرنا بہت مشکل ہے، نجم سیٹھی کا تجزیہ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) معروف سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مقبولیت، مسلم لیگ ن کے سیاسی زوال اور توہینِ عدالت کی پٹیشن میں محسن نقوی کو فریق نہ بنانے کی اصل وجوہات پر سے پردہ اٹھا دیا۔ اس حوالے سے اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کے واحد لیڈر ہیں جو شروع دن سے ہیرو ہیں، ذوالفقار بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹو بھی وہ مقام حاصل نہیں کرسکے، اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کی مقبولیت ختم نہیں کی جا سکی۔
نجم سیٹھی نے مسلم لیگ ن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل ن لیگ کو بالکل پسند نہیں کرتی کیونکہ یہ ایک پرانی اور گھسی پٹی پارٹی بن چکی ہے، جو ماضی میں انٹی اسٹیبلشمنٹ سمجھی جاتی تھی مگر آج مکمل طور پر سائیڈ لائن ہو کر لیٹی ہوئی ہے۔

توہینِ عدالت کیس میں محسن نقوی کا نام شامل نہ کرنے کی منطق پر سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ کہنا کہ ’محسن نقوی نے بیان نہیں دیا اس لیے نام نہیں ڈالا‘ یہ ایک کمزور مؤقف ہے، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو جلد ہی ہسپتال شفٹ کیا جائے گا اور محسن نقوی ہی وہ شخصیت ہیں، جن کے ذریعے پسِ پردہ مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، اگر پی ٹی آئی انہی کو توہینِ عدالت کا نوٹس بھیج دیتی تو معاملات خراب ہو جاتے۔
نجم سیٹھی نے انکشاف کیا کہ اندرونی طور پر سب کچھ طے ہو چکا ہے اور عدالت میں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے نام پر اعتراض کے باعث معاملہ وقتی طور پر رکا، تاہم طے شدہ معاملات کے نتیجے میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا اور بدلے میں پی ٹی آئی 27 ستمبر کی لانگ مارچ کی کال واپس لے کر اچھے بچے کی طرح پارلیمنٹ اور کمیٹیوں کے عمل میں واپس لوٹ آئے گی، تاہم بیانیے کی وجہ سے پی ٹی آئی اس تاثر کو ظاہر نہیں ہونے دے رہی۔

WhatsApp
Get Alert