سرانان حملے پر محمود خان اچکزئی کا بیان، دہشتگردوں کا نام نہ لینا خوف کے مترادف ہے، اصل حقائق چھپانا پشتونوں سے دوستی نہیں دشمنی ہے: میر ضیاء اللہ لانگو
سرانان حملے کی ذمہ داری ایک دہشتگرد تنظیم قبول کر چکی ہے، لیڈران کو اپنی جان کے خوف سے شارٹ کٹ اختیار نہیں کرنا چاہیے: صوبائی وزیر داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی جان کے خوف کی وجہ سے دہشتگردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں، اور اصل حقائق پشتونوں سے چھپانا دوستی نہیں بلکہ دشمنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ سرانان حملے کی ذمہ داری ایک دہشتگرد تنظیم خود قبول کر چکی ہے اور اس نے حملے کی تصاویر بھی ریلیز کی ہیں۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ خوف اور ڈر ہے جو ہمارے لیڈروں کے دلوں سے نہیں نکل سکتا، اور یہ رویہ دوغلے پن کے مترادف ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ہمارے لیڈروں کی ہمیشہ دو چیزوں پر توجہ مرکوز دیکھی گئی ہے۔ پہلی یہ کہ ہر معاملے میں شارٹ کٹ اپناتے ہوئے ساری ذمہ داری حکومت کے کھاتے میں ڈال دی جائے، جس سے ملک اور ریاست کی بدنامی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لیڈران کو اپنی جان کا خوف لگا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ دہشتگرد تنظیموں کا نام لینے سے گریزاں ہیں اور عوام سے اصل حقائق چھپا کر سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت پوری دنیا جانتی ہے۔ جو لوگ خود کو لیڈر کہلاتے ہیں، انہیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ ایک حقیقی لیڈر کو میدان میں آ کر عوام کی قیادت کرنی چاہیے اور سچائی لوگوں تک پہنچانی چاہیے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی سمیت تمام پشتون لیڈروں کو پشتونوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات کی حمایت کی کہ پشتونوں کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق دیگر اقوام کے برابر لانے کے لیے بات کی جائے، یہ ایک بہت اچھی بات ہے جس سے نہ صرف پشتون قوم بلکہ پوری دنیا خوش ہوگی۔
تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشتونوں سے اصل حقائق اور سچائی چھپانا اور انہیں صحیح راستے کے بجائے غلط راستہ دکھانا، کسی بھی صورت پشتون دوستی نہیں، بلکہ یہ پشتونوں سے کھلی دشمنی ہے۔
