کیا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن ہو چکا؟ افتخارگیلانی کی نامزدگی پر عاصمہ شیرازی کی تنقید
ن لیگ کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن کیا وجہ ہوئی کہ ایک ہارے ہوئے شخص کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کیا جا رہا ہے؟ کیا یہ فیصلہ کشمیر کے معروضی حالات میں زخموں پر مرہم رکھ پائے گا؟ اینکرپرسن کے سوالات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کو نامزد کیے جانے کے بعد صحافتی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا، نامور صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے اس فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ن لیگ کی سیاسی ترجیحات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں عاصمہ شیرازی نے ن لیگ کی مرکزی قیادت کی جانب سے ٹیکنوکریٹ نشست پر آئے رہنما کو اس اعلیٰ آئینی منصب کے لیے چننے کے فیصلے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے ن لیگ کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی اپنی سیاسی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن آخر ایسی کیا وجہ آن پڑی کہ اپنے ہی حلقے سے عام انتخابات میں شکست کھانے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم نامزد کیا جا رہا ہے؟۔
ن لیگ کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن کیا وجہ ہوئی کہ ایک ہارے ہوئے شخص کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ فیصلہ کشمیر کے معروضی حالات میں زخموں پر مرہم رکھ پائے گا ؟ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ مکمل دفن ہو چکا۔۔۔؟
— Asma Shirazi (@asmashirazi) August 27, 2026
عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ معروضی حالات، جہاں عوام مہنگائی، بجلی کی قیمتوں اور حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں اور ایک شدید بے چینی کی لہر موجود ہے، وہاں ایسے فیصلے کس حد تک سازگار ثابت ہوں گے؟ کیا الیکشن ہارنے والے رہنما کو اقتدار کی مسند پر بٹھانے کا یہ قدم کشمیر کے عوامی اور سیاسی زخموں پر مرہم رکھ پائے گا یا اس سے عوامی عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا؟ اس کے علاوہ خاتون اینکرپرسن نے مسلم لیگ ن کے مشہورِ زمانہ سیاسی نعرے پر کاری ضرب لگاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اس نامزدگی کے بعد ن لیگ کا ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے؟ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ عوامی مینڈیٹ اور منتخب نمائندوں کو پسِ پشت ڈال کر اسلام آباد میں قائم وزیراعظم ہاؤس کے بند کمروں میں فیصلے کرنا عوامی رائے کی توہین ہے۔
