یہ سیاسی فیصلے ہیں، لکھے پڑھے رولز نہیں، افتخار گیلانی کی نامزدگی پر اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے عام انتخابات میں شکست خوردہ رہنماء بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کی نامزدگی سے متعلق پیدا ہونے والے سیاسی سوالات اور تنقید پر اپنا ردِعمل دے دیا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران پوچھے جانے والے اس سوال پر کہ ’عوام نے جسے ووٹ نہ دے کر مسترد کر دیا، مسلم لیگ ن اسے آزاد کشمیر کا وزیراعظم کیوں بنا رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں وفاقی وزیرِ قانون نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے امور سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں نہ کہ یہ کوئی لکھے پڑھے رولز ہیں۔
بریکنگ نیوز: آزاد کشمیر میں غیرمنتخب شخص کو وزیراعظم نامزد کرنے پر وفاقی وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ کا موقف آ گیا !!!
عوام نے جسے ووٹ نہ دے کر مسترد کر دیا مسلم لیگ ن اُسے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا رہی ہے؟ سوال
یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں کوئی لکھے پڑھے رولز نہیں، اس سوال کا بہتر… pic.twitter.com/j3GhzOzE1T
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) August 27, 2026
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، کوئی لکھے پڑھے رولز نہیں ہوتے، اس سوال کا زیادہ بہتر اور تفصیلی جواب ہماری پارٹی کی سیاسی ٹیم ہی دے سکتی ہے، بطور قانون کا ایک طالب علم میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آزاد جموں و کشمیر کا آئین کسی ٹیکنوکریٹ یا مخصوص نشست پر منتخب رکن کو وزیراعظم بننے سے نہیں روکتا اور نہ ہی اس پر کوئی آئینی بندش عائد کرتا ہے، تو پھر اس نامزدگی میں قانونی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔
