خضدار واقعے پر دکانداری چمکانے کی اجازت نہیں دیں گے ملوث عناصر کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے، ننگ و ناموس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا نواب ثناء اللہ زہری


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری اور صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری سے قبائلی و سیاسی رہنماؤں سردار محمد علی جتک اور میر محمد اکبر جتک نے جھالاوان ہاؤس میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران بلوچستان بالخصوص جھالاوان کی سیاسی و علاقائی صورتحال، امن و امان اور مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ جھالاوان کا امن اور استحکام ہمارے لیے انتہائی عزیز ہے، علاقے میں قیامِ امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں سابق وزیراعلی نواب ثناء اللہ خان زہری نے خضدار میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھالاوان سمیت پورے بلوچستان میں بسنے والے عوام کی ننگ و ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، واقعے میں ملوث عناصر خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا سابق وزیر اعلی نواب ثنائ اللہ زہری نے کہا کہ جھالاوان میں آباد تمام اقوام میرے اپنے ہیں اور سب مجھے عزیز ہیں، کسی کو ہمدردی کے نام پر سیاست یا خضدار واقعے پر دکانداری چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص کو انسانی جان اور عزت و ناموس کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون سب کے لیے برابر ہے اور واقعے کے ذمہ دار افراد جلد قانون کے کٹہرے میں ہوں گے نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ جھالاوان سمیت بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری سے قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری کی قیادت میں اپوزیشن اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی ملاقات کے موقع پر صوبائی مشیر بلدیات و دیہی ترقی نوابزادہ امیر حمزہ خان زہری بھی موجود تھے۔ وفد میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری، اصغر علی ترین، میر زابد ریکی، ڈاکٹر نواز کبزئی اور رکن قومی اسمبلی میر عثمان بادینی شامل تھے ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیاسی و علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا.

WhatsApp
Get Alert