محکمہ تعلیم کی لاپرواہی، کراچی کا ٹاپ اسکول سیل، 2800 طلبہ دربدر


کراچی(قدرت روزنامہ)محکمہ تعلیم سندھ کی لاپرواہی کے باعث کراچی کا بہترین سرکاری اسکول دہلی گورنمنٹ اسکول کریم آباد کی عمارت کو عدالتی احکامات پر سیل کر دیا گیا ہے جس کا با قاعدہ بورڈ بھی آویزاں کردیا گیا۔
کریم آباد میں واقع تاریخی دہلی گورنمنٹ اسکول کی عمارت کو سیل کرنا طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، اس اقدام سے اسکول میں زیرِ تعلیم 2800 سے زائد طالب علموں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ قانونی تنازع اور کرایہ کی عدم ادائیگی اس فیصلے کی بنیاد بنی اور محکمہ تعلیم نے اس کیس میں دلچسپی نہیں لی حالانکہ جس ایسوسی ایشن کو اسکول دیا گیا ہے وہ فعال ہی نہیں تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ عمارت اصل میں دہلی اینگلو عربک کالج اینڈ اسکولز اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی ملکیت تھی جسے 1970ء کی دہائی میں قومیالیا گیا تھا۔
محکمہ تعلیم سندھ کو اس عمارت کا ماہانہ کرایہ مالکان کو ادا کرنا تھا جس میں طویل عرصے تک مجرمانہ غفلت اور عدم ادائیگی برتی گئی۔
مالکان نے عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا جس پر طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت نے اسکول کو ڈی نیشنلائز کرنے اور کرایوں کی عدم ادائیگی پر عمارت خالی کر کے سیل کرنے کا حکم دیا جب کہ دہلی گورنمنٹ اسکول (بوائز اینڈ گرلز، پرائمری و سیکنڈری کراچی کا سب سے بہترین اور انتہائی معروف اور تاریخی اسکول رہا ہے جس نے کئی دہائیوں تک بہترین نتائج دیے اور چند برس قبل بھی میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
اسکول اچانک سیل ہونے سے وہاں زیرِ تعلیم ہزاروں غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کا تعلیمی سال شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، محکمہ تعلیم سندھ کا عمومی رویہہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی کراچی کے کئی نامور سرکاری تعلیمی اداروں جیسے عائشہ باوانی کالج اور اسلامیہ کالج کمپلیکس کو بھی اسی قسم کے تنازعات اور کرایوں کے مسائل پر سیل کیا جا چکا ہے۔
محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، لیز کی تجدید اور قانونی چارہ جوئی میں بروقت اقدامات نہ کرنا ایسے بحرانوں کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں دہلی گورنمنٹ اسکول کو سیل کیے جانے کے خلاف طلبہ نے اسکول کے سامنے احتجاج کیا اور باہراسمبلی بھی لگائی۔

WhatsApp
Get Alert