’ہونی ہونیوالی ہے، چَن چڑھنے والا ہے، ری سیٹ ایجنڈا رکے گا نہیں یہ چلتا رہے گا‘
منصوبے سوچے جا چکے ہیں، دھڑا دھڑ کام ہو رہا ہے، کٹا کھل چکا ہے، اگلے چند دنوں میں کٹا سرِبازار دیدار کرائے گا، کوئی مانے نہ مانے کوئی نہیں مانتا تو جہاں جانا ہے وہاں جائے؛ تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کالم

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)معروف کالم نگار اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین کالم میں ملک کے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور ’ری سیٹ ایجنڈے‘ کے حوالے سے سنسنی خیز تجزیہ پیش کردیا۔ روزنامہ جنگ میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ سیاست کا گھوڑا اب لگام سے باہر ہو چکا ہے اور شطرنج کے مہرے ہل چکے ہیں، جس کے بعد اب پرانی سچویشن پر واپس جانا ممکن نہیں، عمران خان کے شفاء ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم سے لے کر اب تک کے عجیب و غریب واقعات نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے اور سیاست جمود توڑ کر تند و تیز تحرک میں داخل ہو چکی ہے۔
راولپنڈی کے نونی سینیٹر ناصر بٹ نےتو برملا کہہ دیا کہ نونی حکومت کیخلاف پھر سے سازش شروع ہو چکی ہے، نونی بڑوں کے نہ صرف کان کھڑے ہوئے بلکہ سرخ ہوتے ہوئے نظر آئے بس پھر کیا تھا پلان پر نظرثانی کر کے قافلے کا رخ الشفا کی بجائے پمز کی طرف کر دیا گیا۔https://t.co/ufEv1YcETL
— Suhail Warraich (@suhailswarraich) August 31, 2026
انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور ’نظام کے انہدام‘ کے بیان پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ موجودہ وفاقی حکومت اپنا آدھے سے زیادہ وقت گزار چکی ہے، لیکن وزیراعظم کی دن رات محنت کے باوجود نہ تو کوئی سیاسی بیانیہ بن سکا اور نہ ہی معیشت میں واضح بہتری کا زینہ نظر آیا، ایسے میں وفاقی وزیر کی جانب سے نظام کی تباہی اور ری سیٹ کی بات محض ذاتی نہیں بلکہ ریاستی سوچ کا عکاس ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن نے اس سوچ سے باخبر ہوتے ہوئے مصلحتاً خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اصلاحات اور نظام کی بنیادی تبدیلیوں کا جو عمل شروع ہو رہا ہے، وہ اب رکنے والا نہیں ہے، ملکی ترقی کے لیے ری سیٹ ہوگا، جس کے تحت نئے صوبے بھی تشکیل دیئے جائیں گے اور مرکز کا مالیاتی حصہ بھی بڑھایا جائے گا، تمام تر دستاویزات اور منصوبے تیار کیے جا چکے ہیں، جن پر تیزی سے کام جاری ہے اور رواں سال اصلاحات کے آغاز کے بعد اگلے سال سے ان پر مکمل عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔
