مئی 2025 کی کامیابی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت کو مزید نمایاں کردیا،لندن بک ریوئیو میں مضمون

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تحریک انصاف کا حمایتی معروف مصنف اور صحافی اوون بینیٹ جونز بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفیں کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ معروف برطانوی جریدے لندن ریویو آف بکس (London Review of Books) میں معروف مصنف اور صحافی اوون بینیٹ جونز (Owen Bennett-Jones) کے مضمون ’’Munir’s Victory‘‘ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت، پیشہ ورانہ صلاحیت، ذاتی پس منظر، دہشت گردی کے خلاف جنگ، قومی خودمختاری کے دفاع، علاقائی سلامتی اور پاکستان کی معاشی صورتحال سمیت مختلف اہم پہلوؤں کو بھرپورر انداز میں سراہا ہے۔
اوون بینیٹ جونز نے اپنے مضمون میں پاکستان میں فوج کے کردار اور مشکل حالات میں اس کی انتظامی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مضمون کے مطابق جب ملک کے کسی حصے میں مشکل حالات، سکیورٹی خطرات یا انتظامی ناکامی کے نتیجے میں خلا پیدا ہوتا ہے تو فوج اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسداد دہشت گردی سے لے کر حساس علاقوں میں ریاستی نظم و نسق برقرار رکھنے تک فوج کی تنظیمی صلاحیت اور نظم و ضبط کو اہم قومی اثاثہ قرار دیا گیا ہے۔
سادہ گھرانے سے اعلیٰ عسکری منصب تک سفر
مضمون میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خاندانی پس منظر کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق ان کا تعلق ایک سادہ اور محنت کش گھرانے سے تھا۔ مضمون میں ان کے والد منیر سینئر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ خاندان کے محدود مالی وسائل کے باوجود انہوں نے محنت اور سادگی کے ساتھ زندگی گزاری اور سائیکل پر سفر کیا۔
مضمون کے مطابق عاصم منیر کا فوج میں اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنا میرٹ، نظم و ضبط، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے، جس سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ ان کی ترقی دولت، خاندانی اثر و رسوخ یا مراعات کے بجائے ان کی اپنی صلاحیتوں اور خدمات کی بنیاد پر ہوئی۔
تلوارِ اعزاز، ابتدائی پیشہ ورانہ قابلیت کا اعتراف
اوون بینیٹ جونز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ابتدائی فوجی کیریئر کا ذکر کرتے ہوئے ان کے تلوارِ اعزاز حاصل کرنے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ مضمون کے مطابق یہ اعزاز ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قیادت کی ابتدائی علامت تھا۔
مضمون میں ان کے عسکری سفر کو کئی دہائیوں پر محیط تجربے، میرٹ اور نمایاں فوجی خدمات کے تسلسل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عسکری ذمہ داریوں تک پہنچے۔
نظم و ضبط اور دیانت داری
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت کے حوالے سے مضمون میں ان کے نظم و ضبط اور فیصلہ کن طرز قیادت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے برعکس عاصم منیر کے بارے میں بدعنوانی کی شہرت نہیں پائی جاتی۔
مضمون میں ان کی ذاتی دیانت داری اور مضبوط نظم و ضبط کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا گیا ہے جب پاکستان کو مشکل فیصلوں، اصلاحات اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔
قومی خودمختاری کے دفاع میں دوٹوک مؤقف
مضمون میں پاکستان کی قومی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق ان کی قیادت میں پاکستان نے اپنی سرزمین اور خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح اور فیصلہ کن ردعمل کا مظاہرہ کیا۔
مضمون کے مطابق پاکستان کے لیے مشرقی یا مغربی سرحد سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات کی صورت میں قومی خودمختاری اور سلامتی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
مئی 2025 کی فوجی کامیابی
مضمون میں مئی 2025 کے پاک بھارت فوجی تنازع کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت کے اہم ترین مراحل میں شمار کیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق اس معرکے کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرائے جانے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملک میں ساکھ اور مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
مضمون میں مئی 2025 کی کامیابی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایک اہم ذاتی اور عسکری کامیابی کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج کا کردار
اوون بینیٹ جونز نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔ مضمون کے مطابق 2008 سے 2014 کے دوران شدید اور طویل فوجی کارروائیوں کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو ختم کیا اور کئی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
مضمون میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں، افسران اور شہریوں کی قربانیوں کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
انٹیلی جنس میں بہتری اور آپریشنل صلاحیت
مضمون میں پاکستانی فوج کی موجودہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے حوالے سے بہتر انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق عسکری حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس میں بہتری کے باعث دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں زیادہ مؤثریت حاصل ہوئی ہے۔
مضمون میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے جانی نقصانات کے تناسب کو بھی فوج کی بہتر آپریشنل صلاحیت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
دہشت گردی اور اسلام کے درمیان واضح فرق
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مذہبی انتہاپسندی اور پرتشدد جہاد کے حوالے سے مؤقف کو بھی مضمون میں خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق فیلڈ مارشل نے اسلام اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
مضمون میں ان کے اس مؤقف کا ذکر کیا گیا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو ریاستی اختیار کے بغیر ہتھیار اٹھانے یا جہاد کا اعلان کرنے کا حق حاصل نہیں۔
خوارج کے حوالے سے واضح ریاستی بیانیہ
مضمون میں تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سخت مؤقف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد عناصر کو خوارج قرار دینے سے ان کے مذہبی بیانیے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
اوون بینیٹ جونز کے مطابق اس مؤقف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ریاستی اور نظریاتی بیانیے کو مزید واضح کیا ہے۔
افغان طالبان کو دوٹوک پیغام
افغانستان کے حوالے سے مضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مؤقف کا بھی ذکر ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق پاکستان کی قیادت افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے افغان طالبان پر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو پناہ دینے کے حوالے سے سخت تنقید کا ذکر کیا گیا ہے۔
عالمی امن اور پاکستان کا بڑھتا کردار
مضمون میں عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز نے بین الاقوامی امن اقدامات میں پاکستان کی شرکت کو ملک کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کے تناظر میں بیان کیا ہے۔
اسی سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے باہمی دفاعی معاہدے کو بھی ایک اہم تزویراتی پیش رفت کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اہم دفاعی شراکت داری
مضمون میں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں ایسی شق کا ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کی سلامتی کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
مضمون کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے علاقائی دفاعی تعلقات اور تزویراتی اہمیت میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
معاشی استحکام اور مہنگائی میں کمی
اوون بینیٹ جونز نے پاکستان کی معاشی صورتحال کا بھی جائزہ لیا ہے۔ مضمون میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2023 میں 38 فیصد تک پہنچنے والی سالانہ مہنگائی کی شرح 6 فیصد تک آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مضمون میں مہنگائی میں کمی کو معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، جس سے عوام کو ریلیف اور کاروباری اعتماد میں بہتری کی توقع پیدا ہوتی ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور زرمبادلہ ذخائر
مضمون میں پاکستان کے چودہ برس بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اوون بینیٹ جونز کے مطابق معاشی اشاریوں میں یہ بہتری پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال میں استحکام کی علامت ہے اور پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی تعاون اور معاشی نظم و نسق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
پاکستان کی دفاعی صنعت کے حوالے سے مضمون میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے JF-17 تھنڈر جنگی طیاروں کی ممکنہ بین الاقوامی فروخت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق ایسے ممکنہ معاہدے پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی برآمدی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں جبکہ دفاعی مصنوعات کی برآمد سے زرمبادلہ، ہنرمند روزگار اور طویل مدتی تزویراتی شراکت داری کو فروغ مل سکتا ہے۔
فوج اور حکومت کے درمیان تعاون
مضمون میں پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے تناظر میں حکومت اور فوج کے درمیان تعاون کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کے مطابق حکومتی اداروں اور فوج کے درمیان تعاون نے استحکام پیدا کرنے میں کردار ادا کیا، جس سے ریاست کو معاشی بحالی، سرمایہ کاری، ترقی اور قومی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملی۔
مجموعی طور پر “Munir’s Victory” میں اوون بینیٹ جونز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت اور قیادت کو پاکستان کی موجودہ عسکری، سیاسی، معاشی اور علاقائی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں جانچنے کی کوشش کی ہے۔ مضمون میں ان کے سادہ خاندانی پس منظر، پیشہ ورانہ قابلیت، نظم و ضبط، دہشت گردی کے خلاف پالیسی، قومی خودمختاری کے دفاع اور پاکستان کے علاقائی و عالمی کردار سمیت متعدد پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے حمایتی ڈیوڈ اوون فیلڈ مارشل اور پاکستان کی تعریف ]پرمجبور
پی ٹی آئی کے حمایتی ڈیوڈ اوون کا اچانک یوٹرن لےلیا فیلڈ مارشل اور پاکستان کی تعریف پر مجبور ، دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ وہی شخص ہیں جو ماضی میں پی ٹی آئی لندن سے پیسے لے کر پاکستان کے خلاف جھوٹے اور پروپیگنڈا پر مبنی مضامین لکھتے رہے ہیں۔

WhatsApp
Get Alert