میرا علیمہ خان یا عظمیٰ خان کے ساتھ کوئی ذاتی یا مالی تنازع نہیں، جواب تب دیا جب میرے خلاف بیانات آئے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) رہنماء پی ٹی آئی شیرافضل مروت کا کہنا ہے کہ میرا علیمہ خان یا عظمیٰ خان کے ساتھ کوئی ذاتی یا مالی تنازع نہیں، جواب تب دیا جب میرے خلاف بیانات آئے، بہنوں سے میری صرف اتنی گزارش ہےکہ جب آپ میرے متعلق سوال کا جواب دیتی ہیں تو لوگ ہمارا تماشہ دیکھتے ہیں۔ ایکس کے مطابق ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا علیمہ خان صاحبہ یا عظمیٰ خان صاحبہ کے ساتھ کوئی ذاتی یا مالی تنازع نہیں۔
میں خود علیمہ خان صاحبہ کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد کے احتجاج میں شریک رہا ہوں۔ بعد ازاں میرے خلاف مسلسل چار مرتبہ بیانات سامنے آئے، جس پر میں نے اپنا مؤقف واضح کرنا اور جواب دینا ضروری سمجھا۔
باقی میں بہنوں سے صرف اتنی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جب صحافی حضرات آپ سے میرے متعلق سوال کرتے ہیں اور آپ اس کا جواب دیتی ہیں تو اس سے معاملات مزید عوامی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں اور لوگ ہمارا تماشہ دیکھتے ہیں۔
شیر افضل خان مروت نے کہا کہ میں نے مشکل وقت میں پورے ملک میں پارٹی کے لیے مہم چلائی، عوام کو حوصلہ دیا اور وہ کام کیے جو اُس وقت کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن جیسے ہی حالات بدلے، اور وہ لوگ سامنے آئے جو چھپے ہوئے تھے تو میرے خلاف کردارکشی شروع کر دی گئی، شاید اس لیے کہ میرا سیاسی گراف اُن سے زیادہ اوپر جا رہا تھا۔ اگر انہیں اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے تو مبارک ہو۔
شیر افضل خان مروت نے کہا کہ 27 ستمبر کو پشاور، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے قریبی اضلاع سے قافلہ اسلام آباد، راولپنڈی اور اڈیالہ کی جانب آنا چاہیے، جبکہ دیگر صوبوں کے مرکزی شہروں میں لوگ اپنی جگہ دھرنے دیں اور سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کریں، لیکن سندھ میں بھی علیحدہ احتجاجی سرگرمی ہونی چاہیے۔
شیر افضل خان مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مزید وقت گزارنے کے بجائے وزیراعلیٰ کو اٹک، میانوالی، بھکر، چکوال، جہلم اور تلہ گنگ جیسے علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تھا، کیونکہ ان اضلاع میں بڑی آبادی موجود ہے اور وہاں سے مارچ کے لیے مؤثر عوامی حمایت حاصل کی جا سکتی تھی۔
