11 ارب کے جہاز اور لگژری گاڑیوں کا حساب کون دے گا؟ مونس الٰہی کا مریم نواز سے سوال


لاہور (قدرت روزنامہ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر مالی بدعنوانی، شاہ خرچیوں اور مختلف منصوبوں میں بھاری کمیشن لینے کے سنگین الزامات عائد کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں مونس الٰہی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے “کسی کو کھانے نہیں دوں گی” والے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا، انہوں نے تنقیدی ہیش ٹیگ MadamThiefMinister# کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ‘کسی کو کھانے نہیں دوں گی’ کا بیان دینے والوں کا اپنا نامہ اعمال سب کے سامنے ہے، کیا اب بلی دودھ پر پہرہ دے گی؟۔

مونس الٰہی نے پنجاب حکومت کی جانب سے کی جانے والی مبینہ شاہ خرچیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں ہیرا پھیری کی فہرست جاری کرتے ہوئے سوالات اٹھائے کہ 11 ارب روپے کا جہاز اور اربوں روپے کی لگژری گاڑیاں کس کے استعمال کے لیے اور کس کے پیسوں سے خریدی گئیں؟ گندم کی سرکاری خریداری کے اسکینڈل سے لے کر ستھرا پنجاب جیسے صفائی کے پروگرام میں اربوں روپے کی ہیرا پھیری کی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ الیکٹرک بسوں کی ترسیل اور خریداری کے معاہدوں میں بھاری رقم کمیشن کی مد میں ہڑپ کی گئی، اگر وزیراعلیٰ شفافیت کی دعویدار ہیں تو ان تمام منصوبوں میں ہونے والے اربوں روپے کے معاشی نقصان اور کمیشن کا جواب دہ کون ہے؟۔

WhatsApp
Get Alert