5 لاکھ 20 ہزار تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا، 10 لاکھ ہونی چاہیے، ن لیگی ایم این اے شمائلہ رانا کا مطالبہ
ہمیں حکومت یا پارلیمنٹ کی طرف سے کوئی اضافی مراعات نہیں ملتیں، نہ رہنے کو گھر ملتا ہے، نہ گاڑی اور نہ ہی کوئی سرکاری ڈرائیور فراہم کیا جاتا ہے؛ حکمران جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے اراکینِ پارلیمنٹ کی مراعات اور موجودہ تنخواہوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ میں گزارا کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور اراکین کی تنخواہ کم از کم 10 لاکھ روپے ہونی چاہیے۔ ایک انٹرویو کے دوران قومی اسمبلی میں اراکین کو ملنے والے مالیاتی فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے شمائلہ رانا کا کہنا تھا کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو جس قسم کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، موجودہ تنخواہ اس کے لیے بالکل ناافی ہے، ہمیں حکومت یا پارلیمنٹ کی طرف سے کوئی اضافی مراعات نہیں ملتیں، نہ رہنے کو گھر ملتا ہے، نہ گاڑی اور نہ ہی کوئی سرکاری ڈرائیور فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے دلچسپ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں خود آج کل ڈائیٹنگ پر رہتی ہوں، اس لیے مجھے کچھ پیسے بچ جاتے ہیں، اگر ڈائیٹ نہ ہو اور خوراک نارمل ہو تو پھر اتنی تنخواہ میں گزارا کرنا بھی انتہائی مشکل ہو جائے، اس لیے موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اراکینِ اسمبلی کی تنخواہ کم از کم 10 لاکھ روپے ماہانہ ہونی چاہیے۔
اپنی خاندانی اور سیاسی پس منظر پر بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے اپنی والدہ کی سیاسی قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی والدہ نے نچلی سطح پر بے شمار اسٹریٹ پالیٹکس کی، جلسے جلوسوں میں شرکت کی، سختیاں جھیلیں اور جیلیں کاٹیں، یہاں تک کہ انہوں نے جمہوری جدوجہد کے دوران گورنر ہاؤس کا گیٹ بھی کراس کیا، حقیقت یہ ہے کہ سیاست کے ’دل میں کوئی دل‘ نہیں ہوتا۔
ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور جمہوریت کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے شمائلہ رانا نے خبردار کیا کہ سیاسی قیادت اور اداروں کو انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں جمہوری اور انتظامی سسٹم کو مضبوط اور مستحکم کرتے کرتے اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ سسٹم مکمل طور پر ڈی ریل ہی نہ ہو جائے۔
