نقارہ بج چکا، پے درپے واقعات نے رفتار پکڑلی، اب ادھر یا ادھر؟ بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیشگوئی

عرصہ دراز سے اس ہونے کی تیاری کی جا رہی تھی، حکومت سے معیشت اور سیاسی بیانیے تک جو کوتاہیاں تھیں، ان کا کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلنا تھا، کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ رہی ہے؛ سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کالم


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)ملک کے معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین کالم میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو ایک بڑے انتظامی و سیاسی زلزلے کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت اور اقتدار کی کشمکش میں حتمی فیصلے کا وقت آ گیا ہے اور سیاسی اتحاد کی ’کاٹھ کی ہنڈیا‘ بیچ چوراہے پھوٹ رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق جس طرح زلزلہ آنے سے پہلے حشرات الارض بے چین ہو جاتے ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان کی سیاست میں بھی نگران اشارے اور سیٹیاں بج چکی ہیں، جون کے ابتدائی دنوں میں جن خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی، سیاسی حکومت کی معاشی اور بیانیے کی ناکامیوں نے ان کے وقوع پذیر ہونے کی رفتار تیز کر دی ہے۔
حکومتی اتحادیوں کی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ کاٹھ کی ہنڈیا کے دونوں بڑے اتحادی یعنی ن لیگ اور پپلزپارٹی زلزلے سے نپٹنے کی کسی تیاری کے بغیر محض وعدوں پر اکٹھے چل رہے تھے اور اب چوراہے پر پڑے اس اتحاد کو ہر طرف سے پتھر پڑ رہے ہیں، ’پپلیے لوہے‘ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پارس (مقتدر حلقوں) کی چمک دھمک کے ساتھ رہتے ہیں یا اپنے نظریات اور سیاست کو بچانے کے لیے آگ اور خون کے دریا سے گزرنے کا مشکل راستہ چنتے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے مسلم لیگ ن کی قیادت کی حکمتِ عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ نونی پردھان نے دو دہائیوں سے ’پارس‘ کو مرکزِ عقیدت بنا رکھا ہے، نونی پردھان اقتدار اور شراکت داری کی خاطر صوبے کی تقسیم سمیت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں کیونکہ ان کے نزدیک لوہے اور پارس کا اشتراک ہی ملک کو سونا بنا سکتا ہے، تاہم سیٹی بجنے پر صفوں کے اندر پیدا ہونے والی پریشانی اور ’آئرن مین‘ کی پراسرار خاموشی کئی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
کالم نگار نے پاکستان تحریک انصاف کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کاٹھ کی ہنڈیا پھوٹنے کے بعد جیل میں بیٹھے ’انصافی لوہے‘ کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے، ایک طرف جیل سے روحانی اشارے مل رہے ہیں کہ لوہا اب کندن بن چکا ہے، دوسری طرف بیرسٹر گوہر اور ان کے ساتھی یہ عملی دلیل دے رہے ہیں کہ پارس کے ساتھ راستے کھولے بغیر اقتدار تک پہنچنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ سہیل آفریدی کے لاڑکانہ کی طرف لشکری سفر اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو دیکھ کر فیصل کن طاقتیں فعال ہو چکی ہیں، انصافی لوہے کو طے کرنا ہوگا کہ وہ مصلحت اور مصالحت کے جال میں پھنس کر اپنی جیل کی قربانیاں ضائع کرتا ہے یا کوئی نیا سیاسی راستہ نکالتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert