شیریں مزاری اپنی بیٹی ایمان مزاری کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ
قاتل کو 14 سال اور ایک ٹویٹ پر 17 سال کی سزا دی جائے تو سوال یہ ہے کہ میرے بچوں سے کون بدلہ لے رہا ہے؟ جن کی آواز کوئی نہیں سنتا ایسے کیس لڑنے والوں کو خود وکیل نہیں مل رہا؛ سابق وفاقی وزیر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چٹھہ کیس کی سماعت کے بعد سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کا ضبط ٹوٹ گیا اور میڈیا کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ان کی بیٹی سے ذاتی انتقام لے رہے ہیں اور عدالتی نظام سے انصاف کی تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
کیس کی سماعت کے بعد ہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھیں بھر آئیں، انہوں نے نظامِ عدل پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت نہ دیں تو اسے قانون کے مطابق 14 سال کی قید ملتی ہے، یہاں محض ایک ٹویٹ کرنے پر 17 سال کی سزا سنائی جا رہی ہے، آخر یہ کون شخص ہے جو میرے بچوں سے اس طرح بدلہ لے رہا ہے؟۔
اگر آپ قاتل کو 14 سال جبکہ ایک ٹوئٹ پر 17 سال سزا دے دیتے ہیں۔ میرے بچوں سے کون بدلہ لے رہا ہے؟ یہ وہ وکیل ہیں جو بے آواز لوگوں، مظلوم لوگوں کے کیس لڑتے ہیں ان کو آج وکیل نہیں مل رہا۔ یہ ڈوگر ایمان سے اپنا بدلہ لے رہا ہے، ہمیں یہاں انصاف کی کوئی امید نہیں، شیریں مزاری آبدیدہ pic.twitter.com/GOQSHxDal2
— Umer Inam (@UmerInamPk) September 8, 2026
ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ وکلاء ہیں جو ہمیشہ انسانی حقوق، غریبوں اور بے آواز لوگوں کے مقدمات بلا معاوضہ لڑتے رہے ہیں مگر آج انہی وکلاء کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے، انہیں آج وکیل نہیں مل رہا، ان دونوں وکلاء کے مقدمات ہائیکورٹ میں انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں سنے جا رہے اور بلاوجہ تاخیر کا شکار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے صاف لگتا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ایمان کے خلاف اپنا ذاتی بدلہ لے رہے ہیں، جو اعلیٰ عدلیہ کے لیے انتہائی شرمناک بات ہے، ہائیکورٹ تو بالکل ختم ہوگیا ہے، ہمیں اس ہائیکورٹ سے کسی بھی قسم کے انصاف کی کوئی امید نہیں رہی، آج کی سماعت میں بھی جج بالکل خاموش بیٹھا رہا اور آخر میں روایتی انداز میں صرف اگلی تاریخ دے کر کیس ملتوی کردیا۔
