ملک میں عملاً غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے، فیصلے کابینہ نہیں کور کمانڈرز کر رہے ہیں، علی احمد کرد

عمران خان کی صورت میں طویل عرصے بعد ایک جرات مند لیڈر پیدا ہوا جس نے ڈکٹیٹروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، سینئر قانون دان


پریس کلبز میں بھی کمانڈر کی اجازت کے بغیر کوئی سیاسی پروگرام نہیں ہو سکتا، صحافی، سیاستدان اور سول سوسائٹی خوف کا شکار ہیں۔
وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کا کسی کو علم نہیں، لیکن سب جانتے ہیں کہ جنرل اور کور کمانڈر کون ہے۔
مجوزہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کا مقصد وکلاء کو تقسیم کرنا اور ضمیر خریدنا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے عہدیدار بک چکے، ’آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی‘ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے سڑکوں پر نکلے گی۔
کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ملک کے نامور قانون دان اور سینئر وکیل علی احمد کرد نے موجودہ ملکی و سیاسی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں عملاً ایک غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے۔ ملکی قسمت اور پالیسیوں کے فیصلے وزیر اعظم یا کابینہ نہیں بلکہ جنرلز اور کور کمانڈرز کی میٹنگز میں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دیگر سیاستدانوں، صحافیوں اور خصوصاً وکلاء قیادت کی خاموشی پر کڑی تنقید کی۔ وہ کوئٹہ پریس کلب میں ’ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل لائرز بلوچستان‘ کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے ولولہ انگیز خطاب میں علی احمد کرد نے کہا کہ آج کے حالات ماضی کے مقابلے میں بدترین ہیں۔ آئین کے تحت چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہوتا ہے لیکن آج کوئی نہیں جانتا کہ ملک کا وزیرِ دفاع، وزیرِ خزانہ یا وزیرِ خارجہ کون ہے، البتہ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ہمارا جنرل اور کور کمانڈر کون ہے۔ جو فیصلہ کور کمانڈرز کی میٹنگ میں ہوتا ہے، وہی اس ملک کی قسمت اور پالیسی بن جاتا ہے۔
سینئر قانون دان نے بانی پی ٹی آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے بعد اس ملک میں ایک ایسا لیڈر پیدا ہوا ہے جس میں ڈکٹیٹروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی طاقت اور حوصلہ موجود ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کی اس بہادری اور جرات سے اس معاشرے نے کچھ نہیں سیکھا۔ “اگر ہم اور آپ اس بہادری سے کچھ نہیں سیکھتے تو اس میں عمران خان کا کوئی نقصان نہیں بلکہ ہمارا اور ہمارے بچوں کا نقصان ہے۔”

علی احمد کرد نے ملک میں آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج سارا ملک خاموش ہے۔ پریس کلبز جو آزاد سمجھے جاتے تھے، آج وہاں بھی کمانڈر کی اجازت کے بغیر کوئی سیاسی فنکشن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بلوچ سماجی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی سول سوسائٹی کی لیڈر پابندِ سلاسل ہے لیکن خوف کے مارے کسی بڑی سیاسی شخصیت، سیاسی جماعت یا صحافی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکے۔
بار کونسلز کی موجودہ قیادت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان وکلاء لیڈران بک چکے ہیں۔ “ماضی میں وکلاء نے آمریت کے خلاف جو تاریخی تحریک چلائی، آج کی قیادت نے اس پر پانی پھیر دیا ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم لانے کا واحد مقصد وکلاء کو تقسیم کرنا اور پیسے کے زور پر ان کے ضمیر خریدنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم صرف پرچون کی دکان پر بیٹھ کر چیزیں بیچنے نہیں آئے بلکہ عوام کو انصاف دلانے آئے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں علی احمد کرد نے اعلان کیا کہ وکلاء کا ایک طبقہ آج بھی حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ “آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی” اپنی طاقت دکھائے گی۔ ہم اس ملک میں سچ، آئین اور رول آف لاء کا بول بالا کریں گے اور جھوٹ، ظلم اور جبر کو کبھی پنپنے نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا تو ہم سڑکوں پر نکل کر بھرپور مزاحمت کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert