سڑکوں پر پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، ہم کوئی اسلحہ لے کر نہیں نکل رہے، سلمان اکرم راجا


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرام راجا کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے، ہم کوئی اسلحہ لے کر نہیں نکل رہے، کل لاہور کی ایک دکان میں لوگوں نے پوچھا سر بتائیں! کیا حکم ہے؟ 27ستمبر کو ہم نے کہاں نکلنا ہے؟ یہ بات حوصلہ افزا تھی کہ قوم بھی جان چکی ہے ملک میں ظلم ہو رہا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نظام کو گرانا ایک انقلابی واقعہ ہوتا اور انقلاب قومیں لاتی ہیں صرف سیاسی ورکر نہیں لاتے،سیاسی ورکر ہراول دستہ ہوتے جنہوں نے یہ فریضہ خود اپنے لیے چُنا ہوتا لیکن بالآخر قوم کو اٹھنا ہوتا ہے قوم کو ساتھ دینا ہوتا ہے اس لیے ہم پوری قوم کو دعوت دیتے ہیں کہ اس آئینی فریضے میں شامل ہوں۔
پاکستان میں آج الیکشن کھلواڑ بن چکے ہیں، چادر چاردیواری کی حرمت پامال ہوچکی ہے،پچھلے چند دنوں سے ملک بھر میں کیا ہو رہا ہے کس طرح خواتین، بزرگوں بچوں کو مارا پیٹا جارہا ہے۔ اس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونے۔ ہم نے اور زیادہ عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ہمارا مقصد بہت اعلیٰ ہے۔ کل کا میں آپ کو لاہور کا واقعہ بتاؤں میں ایک بازار میں گیا سوچا لوگوں کے جزبات کا اندازہ لگاؤں میں ایک دکان میں گیا وہاں پندرہ بیس لوگ کام کرتے ہیں سب اکٹھے ہوکر مجھے گھیر لیا کہ سر بتائیں ستائیس ستمبر کو ہم نے کہاں نکلنا ہے ہمارے لئے کیا حکم ہے؟میں نے کہا آپ حوصلہ رکھیں آپ کو وقت پر جگہ لاہور کی تنظیم بتا دے گی۔
دو تین اور دکانوں میں گیا میں جہاں گیا یہی صورتحال دیکھنے کو ملی یہ خوش آئند بات ہے کہ قوم جان چکی ہے اس وقت ملک میں ظلم ہو رہا ہے اور اس ظلم کو ہم نے ختم کرنا ہے۔ بغیر تیاری بغیر کسی اطلاع جس طرح عام دکانداروں اور وہاں کام کرنے والوں نے بات کی جن جذبات کا اظہار کیا وہ میرے لیے بہت حوصلہ افزا تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے جو کسی شہری نے درخواست دی ہے اس میں ہمیں فریق بنایا ہی نہیں گیا ، ہمیں آئین اجازت دیتا ہے پرامن احتجاج کی اکٹھے ہو کر سڑکوں پر نکلنے کی اپنے حقوق کی بات کرنے کی،ہم نے کوئی اسلحہ لے کر نہیں نکلنا بطور شہری اپنے حقوق کا تقاضا کرتے احتجاج کرنا ہے۔
بطور وکیل میرے لیے یہ عجیب و غریب بات ہے کہ باقی صوبوں کا اس سے کیا تعلق ہے کیوں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو طلب کیا ہے عدالت نے دیکھتے ہیں عدالت کرنا کیا چاہ رہی ہے۔ پورے ملک میں ہمارے سینکڑوں کارکنوں کو بغیر کسی مقدمے اغواء کیا جارہا ہے، گرفتار کیا جارہا ہے،میانوالی میں ایک بزرگ کو ہسپتال سے اٹھا کر لے گئے صورتحال پوری قوم کے سامنے ہے، قوم کو ہم یہی کہتے ہیں گھروں سے نکلوں پرامن احتجاج تمہارا حق ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج اس کیس کی سماعت تھی جس میں یہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کروانا چاہتے ہیں پچھلے نومبر سے ایک مضحکہ خیز صورتحال جاری ہے خان کو نہ اس میں وکیل مقرر کرنے دیا جارہا ہے اور نہ ان کی وکیل سے ملاقات کروائی جارہی ہے۔ ہماری درخواست تھی جس پر عدالت نے نومبر 2025 میں حکم بھی دیا کہ میری فی الفور ملاقات کروائی جائے،لیکن حکم عدولی ہوئی ہم نے توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے صورتحال یہ ہے کہ نہ ہماری ملاقات کروائی جارہی نہ اس مقدمے کی کاروائی ہورہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert